تذکار مہدی — Page 524
تذکار مهدی ) 524 روایات سید نا محمودی کیسا عادل اور منصف تھا اور اس کا آج تک کتنا شہرہ ہے۔حالانکہ سکندر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے سینکڑوں سال پہلے بلکہ حضرت عیسی علیہ السلام سے بھی پہلے ہو چکا تھا۔مگر اس نے سکندر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعد کا بادشاہ قرار دے کر اسے مسلمان بادشاہ قرار دے دیا۔جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی سینکڑوں سال بعد ہوا تھا کیونکہ سکندر خلافت رابعہ کے زمانہ میں تو ہو نہیں سکتا تھا کیونکہ اس وقت خلفاء کی حکومت تھی۔ย حضرت معاویہ کے زمانہ میں بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ اس وقت حضرت معاویہ تمام دنیا کے بادشاہ تھے۔بنو عباس کے ابتدائی ایام خلافت میں بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ اس وقت وہی روئے زمین کے حکمران تھے۔پس اگر سکندر مسلمان تھا تو وہ چوتھی پانچویں صدی ہجری کا بادشاہ ہو سکتا ہے۔حالانکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سینکڑوں سال پہلے گزرا ہے تو وہ جو سینکڑوں سال پہلے کا بادشاہ تھا۔اسے اس شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی امت میں سے قرار دے دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہ اس سے سخت بدظن ہو کر فورا اٹھ کر چلا گیا۔تاریخ دانی بزرگی کے لئے شرط نہیں۔مگر یہ مصیبت تو اس نے آپ سہیڑی۔اسے کس نے کہا تھا کہ وہ تاریخ میں دخل دینا شروع کر دے تو تاریخ کا انکار اور ایسی تاریخ کا انکار جس کو غلط کہنے کی کوئی معقول وجہ نہ ہو لوگوں کی نگاہ میں انسان کو گرا دیتا ہے۔عذاب نبی کی صداقت کا نشان (الفضل 17 ستمبر 1938 ء جلد 26 نمبر 215 صفحہ 2) ہمارے زمانہ کے رسول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں اور آپ کی موجودگی میں عذاب نازل ہوئے۔آپ کے زمانہ میں ہندوستان میں جب طاعون کا عذاب آیا تو آپ کے اپنے قصبہ میں بھی یہ عذاب نمودار ہوا۔پھر آپ کے زمانہ میں زلزلے آئے اور وہ زلزلہ بھی آیا جو کہ قادیان میں بھی محسوس کیا گیا۔ان مثالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ درست نہیں کہ جہاں اور جس وقت نبی موجود ہو وہاں کوئی عذاب نہیں آتا۔بات اصل میں یہ ہے کہ عذابوں کی کئی قسمیں ہیں۔بعض وہ عذاب ہیں جو کہ نبی کے زمانہ میں ان کی قوم پر آتے ہیں اور اس وقت آتے ہیں جبکہ نبی ان میں موجود