تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 862

تذکار مہدی — Page 525

تذکار مهدی ) 525 روایات سید نامحمود ہوتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں طاعون کا عذاب آیا اور قادیان میں بھی زور کے ساتھ طاعون پڑی۔نیز زلزلہ بھی آپ کے زمانہ میں اور قادیان میں بھی آیا۔اس میں اس قدر شدت تھی کہ اس وقت میں نے دروازہ کی کنڈی کھولنے کی کوشش کی مگر جب میں ہاتھ ڈالتا تو زلزلے کے جھٹکے سے کنڈی میرے ہاتھ سے دُور چلی جاتی اور میں بڑی مشکل سے کنڈی کھول سکا۔اس قسم کے عذاب اس وقت آیا کرتے ہیں جبکہ نبی موجود ہوتا ہے بلکہ رسول کی آمد کے ساتھ ہی ایسے عذاب آنے شروع ہو جاتے ہیں اور یہ نبی کی صداقت کے نشان بنتے ہیں۔اس قسم کے عذابوں سے یہ نہیں ہوا کرتا کہ کوئی ایک بستی یا ایک ملک سارے کا سارا تباہ ہو جائے بلکہ یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ ایسے عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور بعض بچالئے جاتے ہیں اور اس طرح اس رسول کی صداقت کا نشان ظاہر کیا جاتا ہے۔مثلاً جب طاعون قادیان میں آئی اور شدت کے ساتھ آئی اور اس محلہ میں آئی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا سکونتی مکان تھا اور آپ کے مکان کے اردگرد کے مکانوں میں بہت سی اموات ہوئیں تو آپ کے مکان میں ایک چوہا بھی نہ مرا۔حالانکہ حفظانِ صحت کی رو سے بوجہ اس کے کہ بہت سے لوگ آپ کے گھر میں اپنی حفاظت کے خیال سے جمع ہو گئے تھے وہاں مرض کا آجانا زیادہ قرین قیاس تھا مگر خدا تعالیٰ نے آپ کے گھر کو بالکل محفوظ رکھا اور اس طرح آپ کی صداقت کا نشان ظاہر کیا۔الغرض اس قسم کے عذاب رسول کے وقت میں ہی آتے ہیں اور اس کے گرد و پیش میں آتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اس کو محفوظ رکھتا ہے اور نبی کی صداقت کو نمایاں فرما دیتا ہے۔الفضل مورخہ 12 اکتوبر 1939 ء جلد 27 نمبر 234 صفحہ 3) طاعون سے قادیان کی حفاظت یہی حال زلزلہ کا ہے۔اکثر زلزلے ایسے ہی ہوتے ہیں جو ساروں کی تباہی کا موجب نہیں ہوتے۔کچھ لوگ مرتے ہیں تو کچھ بچ بھی جاتے ہیں۔کوئٹہ کا زلزلہ نہایت ہی شدید تھا مگر پھر بھی کچھ لوگ بچ گئے۔بہار کا زلزلہ نہایت خطرناک تھا مگر اس زلزلہ میں بھی بعض لوگ محفوظ رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہی جو زلزلہ آیا اس سے بیس ہزار آدمی صرف کانگڑہ میں ہلاک ہوئے تھے اور بعض قصبات میں ستر فیصدی تک لوگ ہلاک ہو گئے مگر