تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 862

تذکار مہدی — Page 522

تذکار مهدی ) 522 روایات سید نا محمود پوچھا کہ کیا تم مؤمن ہو تو ہم نے کہا کہ ہم تو گنہگار بندے ہیں اس پر حافظ صاحب نے ہمارے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ واقعہ سن کر فرمایا حافظ صاحب سچ کہتے ہیں جب کوئی اقراری مجرم ہو جائے تو اُس کے پیچھے نماز کس طرح جائز ہو سکتی ہے۔اس کے بعد آپ نے فرمایا جسے خدا تعالیٰ ایک مامور کی شناخت کی توفیق دیتا ہے اور وہ پھر بھی کہتا ہے کہ میں مؤمن نہیں تو وہ آپ مجرم بنتا ہے اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی عدالت میں جا کر کہہ دے کہ میں چور ہوں یا ڈاکو ہوں پس جو شخص اپنے آپ کو چور اور ڈاکو کہتا ہے جس طرح وہ مجرم ہے اسی طرح چونکہ مؤمن اور متقی ہونا ایک ہی چیز ہے اس لئے جو شخص کہتا ہے کہ میں متقی نہیں اس کے پیچھے نماز کیوں پڑھی جائے۔پس در حقیقت اللہ تعالیٰ کی جو جماعتیں ہوں ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ مؤمن ہوں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ملک ہوں ، ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ قدوس ہوں، ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ عَزِیز ہوں اور ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ حکیم ہوں۔طاعون کے ایام میں ردی اشیاء جلوا دیں ( خطبات محمود جلد 16 صفحہ 142 ، 143 ) | احباب کو چاہئے کہ وہ خاص طور پر اس بات کا خیال رکھیں کہ اگر کسی جگہ ایسا چوہا نکلے تو بجائے گلی میں پھینکنے کے مٹی کا تیل ڈال کر اسے وہیں جلا دیا جائے۔ایسے موقعوں پر تو یہ کرنا چاہئے کہ سب ردی چیزوں کو بھی جلا دیا جائے بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ وہ پرانی پرانی چیزوں کو سنبھال کر رکھتے ہیں مثلاً ایک ٹوکری ہے جو بالکل شکستہ ہے کسی کام نہیں آ سکتی۔لیکن ایک شخص اسے بھی سنبھالتا ہے کہ یہ فلاں وقت کام آئے گی۔اب یا فلاں وقت وہ کام آئے گی یا وہ ہلاکت کا باعث بنے گی کیونکہ وہ دوسری ایسی ہی چیزوں میں اضافہ کا باعث ہوگی جوردی ہوتی ہے اور جو اس قسم کے وبائی امراض کے پھیلنے کا باعث ہو جاتی ہے پس ایسی تمام رڈیات کو جلا دینا چاہئے اور ان کا مطلق لالچ نہیں کرنا چاہئے۔کئی سالوں کی بات ہے جب طاعون پڑی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تمام ردی اشیاء جلوا دیں اور میں نے خود دیکھا کہ آپ نے چند بڑے بڑے بستے جن میں کاغذات وغیرہ تھے نکلوا کر جلا دیئے۔انہیں میں ایک وہ بستہ بھی جلا دیا