تذکار مہدی — Page 521
تذکار مهدی ) 521 روایات سید نا محمودی کرنا اور یہ کہنا کہ اہل بیت میں سے کسی شخص کی وفات ہوئی ہے بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ روحانی رنگ میں اہل بیت میں ہی شامل تھے۔پس قیصرہ خانم کا ہم سے یہ دوسرا رشتہ ہے کہ وہ اس شخص کے ایک بیٹے کی نواسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اہل بیت میں سے قرار دیا ہے۔خطبات محمود جلد سوم صفحہ 678-677 ) حافظ محمد صاحب پشاوری ایک حافظ محمد صاحب پشاوری ہماری جماعت میں ہوا کرتے تھے ،اب تو وہ فوت ہو چکے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سابقون میں سے تھے، کئی سال انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں قادیان رہنے کا موقع ملا ، ان کی طبیعت میں بہت جوش تھا، اگر کسی کی ذراسی غلطی بھی دیکھ لیتے تو جھٹ کہہ دیتے وہ منافق ہے۔شیعوں کی طرح ان کا یہ خیال تھا کہ ہماری جماعت میں صرف اڑھائی مؤمن ہیں۔ایک وہ ، ایک حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول اور آدھے مولوی عبد الکریم صاحب، احمد یہ چوک میں سے ایک گندہ نالہ گزرا کرتا تھا اور اس پر ایک پھٹہ پڑا رہتا تھا اب تو وہاں سڑک بن گئی اور نواب صاحب کے مکانات تعمیر ہو گئے ہیں۔انہوں نے وہاں بیٹھ جانا اور ہاتھ اُٹھا کر بڑے زور زور سے یہ دعائیں کرنا کہ خدایا! اپنے مسیح کو منافقوں سے بچا اس جماعت میں تو ہم صرف اڑھائی مؤمن رہ گئے ہیں۔ایک دفعہ وہ پشاور جارہے تھے ساتھ اور بھی احمدی تھے کسی نے رستہ میں کوئی بات جو کہی تو انہوں نے کہا کہ یہ بات یوں ہے۔وہ کہنے لگا اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ یہ بات یوں ہے حافظ محمد صاحب کہنے لگے اس کا ثبوت یہ ہے کہ میں کہتا ہوں اور میں مؤمن ہوں۔وہ کہنے لگا یہ آپ نے بڑا بھاری دعوی کر دیا آپ کے اندر تکبر معلوم ہوتا ہے تو بہ کیجئے۔وہ پوچھنے لگے کہ کیا آپ مؤمن نہیں؟ وہ کہنے لگا میں بھلا مؤمن کہاں ہوں میں تو گناہگار بندہ ہوں۔یہ کہنے لگے اچھا اگر آپ مؤمن نہیں بلکہ گنہگار ہیں تو میں آپ کے پیچھے آئندہ نماز نہیں پڑھوں گا۔ایک اور مولوی صاحب بھی ان میں موجود تھے ان سے پوچھا گیا تو وہ کہنے لگے میں بھی اپنے آپ کو مؤمن کہنے سے ڈرتا ہوں۔یہ کہنے لگے اچھا جناب۔اب آپ کے پیچھے بھی آئندہ سے نماز بند۔کچھ عرصہ کے بعد جب دوبارہ یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آئے تو انہوں نے شکایت کی کہ حافظ صاحب الگ نماز پڑھتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہوئی کہ انہوں نے جب