تذکار مہدی — Page 489
تذکار مهدی ) کارمهدی 489 روایات سید نا محمود ہے نبیوں سے ان کے متبعین کو خاص محبت اور اخلاص ہوتا ہے اور انہیں نبی کو دیکھ کر اور کچھ نظر ہی نہیں آتا اور وہ کسی اور بات کی پرواہ نہیں کرتے ہیں جیسا کہ ہمارے مفتی محمد صادق صاحب کی روایت ہے۔جلسہ کے ایام میں ایک دفعہ جب حضرت صاحب باہر نکلے تو آپ کے اردگرد بہت بڑا ہجوم ہو گیا۔اس ہجوم میں ایک شخص نے حضرت صاحب سے مصافحہ کیا اور وہاں سے باہر نکل کر اپنے ساتھی سے پوچھا تم نے مصافحہ کیا ہے یا نہیں؟ اس نے کہا اتنی بھیڑ میں کہاں جگہ مل سکتی ہے؟ اس نے کہا جس طرح ہو سکے مصافحہ کر خواہ تمہارے بدن کی ہڈی ہڈی کیوں نہ جدا ہو جائے یہ مواقع روز روز نہیں ملا کرتے چنانچہ وہ گیا اور مصافحہ کر آیا۔غرض نبی کو دیکھ کر انسان کے دل میں ایک خاص قسم کا جوش موجزن ہوتا ہے اور وہ جوش اتنا وسیع ہوتا ہے کہ نبی کے خدمت گاروں کو دیکھ کر بھی ابل پڑتا ہے۔جب حضرت مسیح موعود نماز کے بعد مسجد میں بیٹھتے تو لوگ آپ کے قریب بیٹھنے کے لئے دوڑ پڑتے۔گو اس وقت تھوڑے ہی لوگ ہوتے تھے تاہم ہر ایک یہی چاہتا تھا کہ میں سب سے قریب بیٹھوں۔اس شخص کے مقدر میں چونکہ ابتلاء تھا اس لئے اسے خیال نہ آیا کہ میں کس شخص کی مجلس میں آیا ہوں۔اس نے سنتیں پڑھنی شروع کیں اور اتنی لمبی کر دیں کہ پہلے تو کچھ عرصہ لوگ اس کا انتظار کرتے رہے۔مگر جب انتظار کرنے والوں نے دیکھا کہ دوسرے لوگ ہم سے آگے بڑھتے جاتے ہیں اور قریب کی جگہ حاصل کر رہے ہیں تو وہ بھی جلدی سے آگے بڑھ کے حضرت صاحب کے پاس جا بیٹھے مگر ان کے جلدی کے ساتھ گزرنے سے کسی کی کہنی اسے لگ گئی۔اس پر وہ سخت ناراض ہو کر کہنے لگا اچھا نبی اور مسیح موعود ہے کہ اس کی مجلس کے لوگ نماز پڑھنے والوں کو ٹھوکر مارتے ہیں۔اتنی سی بات پر وہ مرتد ہوکر چلا گیا۔گویا جو چیز ایمان کی ترقی کا باعث ہے اور اب بھی ہو سکتی ہے۔وہ اس کے لئے ٹھوکر کا موجب ہوگئی اور اس کی مثال اس جماعت کی سی ہو گئی جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب روشنی ہوئی تو ان کا نور جاتا رہا آپ لوگ جو ان دنوں قادیان آئے ہیں۔ان کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ کثرت ہجوم اور کام کرنے والوں کی قلت کی وجہ سے آپ لوگوں کو بہت سی تکالیف پہنچ جاتی ہیں جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے جلسہ کے قریب میرے خطبے جو اخبار میں چھپتے ہیں ان میں یہاں کے لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے۔کہ وہ پوری کوشش اور سعی سے مہمان نوازی کریں اور حتی الامکان بہت کوشش کرتے ہیں مگر