تذکار مہدی — Page 488
تذکار مهدی ) 488 روایات سید نا محمود سے آئی تھیں بڑے شوق کے ساتھ درس میں شریک ہوتیں۔اور سب سے آگے بیٹھتیں۔پندرہ ہیں دن تک آپ ضرورت نبوت۔مامورین کی صداقت کے دلائل۔معیار صداقت اور وفات مسیح پر لیکچر دیتے رہے۔پندرہ بیس دن کے بعد آپ کو خیال آیا کہ عورتوں کا امتحان لینا چاہئے۔کہ وہ کچھ سمجھتی بھی ہیں یا نہیں۔آپ نے اسی خاتون سے جو نابھہ سٹیٹ سے آئی ہوئی تھی۔اور سب سے آگے بیٹھا کرتیں تھیں پوچھا کہ تم بتاؤ۔میرے ان لیکچروں سے کیا سمجھی ہو۔اس عورت نے نہایت سادگی سے جواب دیا۔کہ کوئی نماز روزے دیاں گلاں ای کر دے ہوو گے۔ہور کی کہنا سی۔“ یعنی آپ کوئی نماز روزے کے متعلق ہی وعظ کرتے ہو نگے۔اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس عورت کا جواب سن کر آئندہ سے اس درس کو بند کر دیا۔کہ جب یہ سمجھ ہی نہیں سکتیں تو ان میں درس دینا تو توضیع اوقات ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے اس عورت کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ذکر کیا کہ ایک مامور آیا تو انہوں نے کہا چلو ہم بھی مان لیتے ہیں۔یا ہوسکتا ہے کہ ان کے خاوند احمدی ہوں اور اس وجہ سے وہ بھی ہو گئی ہوں۔لیکن ان کو احمدیت کی تعلیم اور اس کے مسائل سے واقفیت ہی نہ تھی۔اس لئے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لیکچر کوسمجھ نہ سکی۔پس جب تک ایسے لوگوں کی تربیت نہ کی جائے۔اور ان کو مسائل سے آگاہ نہ کیا جائے۔وہ علم و عرفان کی باتوں کو کیسے سمجھ سکتے ہیں۔وہ تو یہی سمجھیں گے کہ الف لیلی سنائی جا رہی ہے جماعت میں علم پھیلانے کے لئے جماعت میں تنظیم پیدا کرنے کے لئے ہمیں دیہاتی مبلغوں کی اشد ضرورت ہے۔خطبات محمود جلد 28 صفحہ 20-19) نماز مغرب کے بعد مسجد میں قیام اور مہمانوں سے ملاقات انبیاء کی جماعتوں کو بھی کچھ نہ کچھ تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں۔کبھی تو ان پر ایسے ایسے ابتلاء آتے ہیں کہ کمزور اور کچے ایمان والے لوگ مرتد ہو جاتے ہیں اور کبھی چھوٹی چھوٹی تکالیف پیش آتی ہیں مگر بعض کمزور ایمان والے ان سے بھی ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے قادیان میں ایک دفعہ پشاور سے ایک مہمان آیا۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں بیٹھتے تھے اور مہمان آپ سے ملتے تھے اور جیسا کہ میں نے بتایا