تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 862

تذکار مہدی — Page 490

تذکار مهدی ) 490☀ پھر بھی اتنے بڑے ہجوم کے انتظام میں وہ کہاں پورے اتر سکتے ہیں۔روایات سید نا محمود ( خطبات محمود جلد 11 صفحه 544,545) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کھانے کا ڈھنگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کھانے کا ڈھنگ بالکل نرالا تھا میں نے کسی اور کو اس طرح کھاتے نہیں دیکھا آپ پھلکے سے پہلے ایک ٹکڑا علیحدہ کر لیتے اور پھر لقمہ بنانے سے پہلے آپ اُنگلیوں سے اُس کے ریزے بناتے جاتے اور منہ سے سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ کہتے جاتے اور پھر ان میں سے ایک چھوٹا سا ریزہ لے کر سائن سے چھو کر منہ میں ڈالتے۔یہ آپ کی عادت ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ دیکھنے والے تعجب کرتے اور بعض لوگ تو خیال کرتے تھے کہ شاید آپ روٹی میں سے حلال ذرے تلاش کر رہے ہیں لیکن دراصل اس کی وجہ یہی جذبہ ہوتا تھا کہ ہم کھانا کھا رہے ہیں اور خدا کا دین مصائب سے تڑپ رہا ہے۔ہر لقمہ آپ کے گلے میں پھنستا تھا اور سُبحَانَ الله سُبْحَانَ اللہ کہہ کر آپ گویا اللہ تعالیٰ کے حضور معذرت کرتے تھے کہ تو نے یہ چیز ہمارے ساتھ لگادی ہے ورنہ دین کی مصیبت کے وقت ہمارے لئے یہ ہرگز جائز نہ تھا۔وہ غذا بھی ایک مجاہدہ معلوم ہوتا تھا، یہ ایک لڑائی ہوتی تھی ان لطیف اور نفیس جذبات کے درمیان۔جو اسلام اور دین کی تائید کیلئے اُٹھ رہے ہوتے اور ان مطالبات کے درمیان جو خدا تعالیٰ کی طرف سے قانونِ قدرت کے پورا کرنے کیلئے قائم کئے گئے تھے مگر ہم جو رسول کریم ﷺ کی امت اور صحابہ کا نمونہ ہونے کے مدعی ہیں کیا یہ ہمارا فرض نہیں کہ وہی جرأت اور دلیری اپنے اندر پیدا کریں جو صحابہ کے اندر تھی۔( خطبات محمود جلد 17 صفحہ 269-270) حضرت مسیح موعود علیہ السلام انتہائی کم خوراک تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب کھانا کھایا کرتے تو بمشکل ایک پھل کا آپ کھاتے اور جب آپ اُٹھتے تو روٹی کے ٹکڑوں کا بہت سا چورہ آپ کے سامنے سے نکلتا۔آپ کی عادت تھی کہ روٹی توڑتے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے جاتے پھر کوئی ٹکڑا اٹھا کر منہ میں ڈال لیتے اور باقی ٹکڑے دستر خوان پر رکھے رہتے۔معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایسا کیوں کیا کرتے تھے مگر کئی دوست کہا کرتے کہ حضرت صاحب یہ تلاش کرتے ہیں کہ ان روٹی