تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 862

تذکار مہدی — Page 437

تذکار مهدی ) 437 روایات سید نا محمود پر تھا تو میں نے کئی ماہ اپنے بچپن کی عمر کے یہاں گزارے ہیں۔پس اس شہر کا کئی رنگ میں احمدیت کے ساتھ تعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیحیت کے دعوئی کا اعلان یہاں سے کیا پہلی بیعت یہاں سے شروع فرمائی، حضرت خلیفہ اول کی شادی یہاں ہوئی اور پھر اُن کی اُس بیوی سے جو اس شہر کی ہیں ایک لڑکی تھیں جن کے ساتھ میری شادی ہوئی، پھر میں نے بچپن کا کچھ زمانہ یہاں گزارا، ان باتوں کی وجہ سے میں نے مناسب سمجھا کہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا اعلان بھی اس شہر میں کروں۔اہالیان لدھیانہ سے خطاب، انوار العلوم جلد 17 صفحہ 258 تا 260 ) حضرت مولوی عبد اللہ سنوری صاحب میاں عبداللہ صاحب سنوری بھی اپنے اندر ایسا ہی عشق رکھتے تھے۔ایک دفعہ وہ قادیان میں آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان سے کوئی کام لے رہے تھے۔اس لئے جب میاں عبداللہ صاحب سنوری کی چھٹی ختم ہو گئی اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جانے کے لئے اجازت طلب کی تو حضور نے فرمایا ابھی ٹھہر جاؤ۔چنانچہ انہوں نے مزید رخصت کے لئے درخواست بھیجوا دی۔مگر محکمہ کی طرف سے جواب آیا کہ اور چھٹی نہیں مل سکتی۔انہوں نے اس امر کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ذکر کیا تو آپ نے پھر فرمایا کہ ابھی ٹھہر و۔چنانچہ انہوں نے لکھ دیا کہ میں ابھی نہیں آ سکتا۔اس پر محکمہ والوں نے انہیں ڈسمس (DISMISS) کر دیا۔چار یا چھ مہینے جتنا عرصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں رہنے کے لئے کہا تھا وہ یہاں ٹھہرے رہے۔پھر جب واپس گئے تو محکمہ نے یہ سوال اٹھا دیا کہ جس افسر نے انہیں ڈسمس کیا ہے اس افسر کا یہ حق ہی نہیں تھا کہ وہ انہیں ڈسمس کرتا۔چنانچہ وہ پھر اپنی جگہ پر بحال کئے گئے اور پچھلے مہینوں کی جو وہ قادیان میں گزار گئے تھے تنخواہ بھی مل گئی۔اسی طرح منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کے ساتھ واقعہ پیش آیا جو کل ہی ڈلہوزی کے راستہ میں میاں عطاء اللہ صاحب وکیل سلمہ اللہ تعالیٰ نے سنایا۔یہ واقعہ الحکم 14 اپریل 1934ء میں بھی چھپ چکا ہے۔اس لئے منشی صاحب کے اپنے الفاظ میں اسے بیان کر دیتا ہوں۔”میں جب