تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 862

تذکار مہدی — Page 438

تذکار مهدی ) 438 روایات سید نامحمود سر رشتہ دار ہو گیا اور پیشی میں کام کرتا تھا تو ایک دفعہ مسلیں وغیرہ بند کر کے قادیان چلا آیا۔تیسرے دن میں نے اجازت چاہی تو فرمایا ابھی ٹھہریں۔پھر عرض کرنا مناسب نہ سمجھا کہ آب ہی فرمائیں گے۔اس پر ایک مہینہ گزر گیا۔ادھر مسلیں میرے گھر میں تھیں کام بند ہو گیا اور سخت خطوط آنے لگے۔مگر یہاں یہ حالت تھی کہ ان خطوط کے متعلق وہم بھی نہ آتا تھا۔حضور کی صحبت میں ایک ایسا لطف اور محویت تھی کہ نہ نوکری کے جانے کا خیال تھا اور نہ کسی باز پرسی کا اندیشہ آخر ایک نہایت ہی سخت خط وہاں سے آیا۔میں نے وہ خط حضرت صاحب کے سامنے رکھ دیا۔پڑھا اور فرمایا لکھ دو ہمارا آنا نہیں ہوتا میں نے وہی فقرہ لکھ دیا۔اس پر ایک مہینہ اور گزر گیا۔تو ایک دن فرمایا کتنے دن ہو گئے۔پھر آپ ہی گننے لگے اور فرمایا اچھا آپ چلے جائیں۔میں چلا گیا اور کپورتھلہ پہنچ کر لالہ ہر چرن داس مجسٹریٹ کے مکان پر گیا تا کہ معلوم کروں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا منشی جی آپ کو مرزا صاحب نے نہیں آنے دیا ہوگا میں نے کہاہاں تو فرمایا ان کا حکم مقدم ہے۔“ میاں عطاء اللہ صاحب کی روایت میں اس قدر زیادہ ہے کہ منشی صاحب مرحوم نے فرمایا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ لکھ دو کہ ہم نہیں آ سکتے تو میں نے وہی الفاظ لکھ کر مجسٹریٹ کو بھجوا دیئے۔یہ ایک گروہ تھا جس نے عشق کا ایسا اعلیٰ درجے کا نمونہ دکھایا کہ ہماری آنکھیں اب پچھلی جماعتوں کے آگے نیچی نہیں ہوسکتیں۔ہماری جماعت کے دوستوں میں کتنی ہی کمزوریاں ہوں کتنی ہی غفلتیں ہوں۔لیکن اگر موسیٰ کے صحابی ہمارے سامنے اپنا نمونہ پیش کریں۔تو ہم ان کے سامنے اس گروہ کا نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔اسی طرح عیسی کے صحابی اگر قیامت کے دن اپنے اعلیٰ کارنامے پیش کریں تو ہم فخر کے ساتھ ان کے سامنے اپنے ان صحابہ کو پیش کر سکتے ہیں اور یہ جو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نہیں کہہ سکتا۔میری امت اور مہدی کی امت میں کیا فرق ہے۔میری امت زیادہ بہتر ہے یا مہدی کی امت زیادہ بہتر۔تو در حقیقت ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے فرمایا ہے۔یہ وہ لوگ تھے جو حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان اور حضرت علی اور دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم کی طرح ہر قسم کی قربانیاں کرنے والے تھے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر قسم کے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار رہتے تھے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو ہی دیکھ لو۔اُن کو خدا نے چونکہ خود جماعت میں ایک ممتاز مقام بخش دیا ہے۔اس لئے میں نے ان کا نام نہیں لیا۔ورنہ ان کی قربانیوں کے واقعات بھی حیرت انگیز ہیں۔آپ جب قادیان میں آئے۔تو اس وقت بھیرہ میں آپ کی پریکٹس جاری تھی