تذکار مہدی — Page 436
تذکار مهدی ) 6436 روایات سید نا محمود کناروں تک شہرت پائے گا اور اُس کے ذریعہ اس کی تبلیغ بھی دنیا کے کناروں تک پہنچے گی کون ہے جو اپنے پاس سے ایسی بات کہہ سکے۔پھر آپ نے فرمایا کہ وہ لڑکا تین کو چار کرنے والا ہو گا۔اس کے یہ معنی بھی تھے کہ وہ اِس پیشگوئی سے چوتھے سال میں پیدا ہو گا چنانچہ آپ نے یہ پیشگوئی 1886ء میں کی اور میری پیدائش 12 جنوری 1889ء کو ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 23 / مارچ 1889ء کو لدھیانہ میں پہلی بیعت لی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کا ہماری جماعت میں بھی اور باہر بھی بہت چرچا ہے اور عموماً یہ سوال کیا جاتا تھا کہ وہ لڑکا کون ہے؟ پیشگوئی میں اُس لڑکے کا نام محمود بھی بتایا گیا تھا اس لئے بطور تفاؤل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میرا نام محمود بھی رکھا اور چونکہ اُس کا نام بشیر ثانی بھی تھا اس لئے میرا پورا نام بشیر الدین محمود احمد رکھا جہاں تک اولاد ہونے اور اُس کے زندہ رہنے کا تعلق تھا یہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی اور ایک بیٹے کا نام محمود رکھنے کی بھی توفیق آپ کو ملی۔مگر دنیا انتظار کر رہی تھی کہ یہ پیشگوئی کس لڑکے کے متعلق ہے چنانچہ آج میں یہی بتانے کے لئے لدھیانہ میں آیا ہوں۔لدھیانہ کے ساتھ جماعت احمدیہ کا کئی رنگ میں تعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلی بیعت اسی شہر میں لی۔آپ کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب آپ کے پہلے خلیفہ ہوئے اور اُن کی شادی لدھیانہ میں ہی حضرت منشی احمد جان صاحب مرحوم کے ہاں ہوئی تھی اور اس پیشگوئی میں جس لڑکے کا تعلق ہے وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اُس بیوی کے بطن سے پیدا ہوا جولدھیانہ میں بھی رہی ہیں۔مجھے یاد ہے۔بچپن میں کچھ عرصہ میں بھی یہاں رہا ہوں۔میں اُس وقت اتنا چھوٹا تھا کہ مجھے کوئی خاص باتیں تو اُس زمانہ کی یاد نہیں ہیں کیونکہ اُس وقت میری عمر دو اڑھائی سال کی تھی صرف ایک واقعہ یاد ہے اور وہ یہ کہ ہم جس مکان میں رہتے تھے وہ سڑک کے سر پر تھا اور سیدھی سڑک تھی میں اپنے مکان سے باہر آیا تو ایک چھوٹا سا لڑکا دوسری طرف سے آ رہا تھا۔اُس نے میرے پاس آ کر ایک مری ہوئی چھپکلی مجھ پر پھینکی۔میں اس قدر دہشت زدہ ہوا کہ روتا ہوا گھر کی طرف بھاگا۔اُس بازار کا نقشہ مجھے یاد ہے وہ سیدھا بازار تھا گو اب میں نہیں جانتا کہ وہ کونسا تھا۔ہمارا مکان ایک سرے رض