تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 862

تذکار مہدی — Page 405

تذکار مهدی ) کارمهدی 405 روایات سید نا محمود بھی میں اس کے لئے کسی نوکری کا انتظام کرتا ہوں۔وہ انکار کر دیتا ہے۔چنانچہ میرے والد گئے اور بڑے مرزا صاحب کی بات ان کو پہنچائی وہ کہنے لگے والد صاحب کو تو یونہی فکر لگی ہوئی ہے میں نے دنیا کی نوکریوں کو کیا کرنا ہے۔آپ ان کے پاس جائیں اور انہیں کہہ دیں کہ میں نے جس کا نوکر ہونا تھا ہو گیا ہوں۔مجھے آدمیوں کی نوکریوں کی ضرورت نہیں۔اس سکھ پر اس بات کا اس قدر اثر تھا کہ جب بھی وہ آپ کا ذکر کیا کرتا۔تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگ جاتے ایک دفعہ وہ چھوٹی مسجد میں آیا اور میرے پاس آکر چھینیں مار کر رونے لگ گیا۔میں نے کہا کیا بات ہوئی وہ کہنے لگا آج مجھ پر بڑا ظلم ہوا ہے۔میں آج بہشتی مقبرہ گیا تھا۔جب میں مرزا صاحب کے مزار پر جا کر سجدہ کرنے لگا۔تو ایک احمدی نے مجھے اس سے منع کر دیا۔حالانکہ اس کا مذہب اور ہے اور میرا مذہب اور ہے۔اگر احمدی قبروں کو سجدہ نہیں کرتے تو نہ کریں لیکن میں تو سکھ ہوں اور ہم سجدہ کر لیتے ہیں پھر اس نے مجھے منع کیوں کیا۔غرض آپ بالکل خلوت نشین تھے اور جو لوگ آپ کے واقف تھے ان پر آپ کی عبادت اور زہد کا اتنا اثر تھا کہ وہ باوجود غیر مسلم ہونے کے وفات کے بعد بھی آپ کے مزار پر آتے رہے۔جس طرح مولوی محمد احسن صاحب نے لاہور جا کر میرے متعلق کہا تھا کہ میں نے ہی انہیں خلیفہ بنایا ہے اور اب میں ہی انہیں معزول کرتا ہوں۔اسی قسم کی بات مولوی محمد حسین بٹالوی نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق کہی تھی۔دعوئی سے پہلے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بڑے مداح تھے۔لیکن جب آپ نے دعوی کیا تو مخالف ہو گئے اور کہنے لگے۔میں نے ہی مرزا صاحب کو بڑھایا تھا اور اب میں ہی انہیں نیچے گراؤں گا۔چنانچہ وہ تمام عمر آپ کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے اور لوگوں کو آپ کے پاس آنے سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں نا کام رکھا پیرا نامی ایک پہاڑ یہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس بطور خدمتگار رہتا تھا۔اسے گنٹھیا کی بیماری تھی۔اس کے رشتہ داروں کو علم ہوا کہ قادیان میں مفت علاج ہوتا ہے تو وہ اسے اٹھا کر قادیان لے آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا علاج کیا۔اور جب وہ تندرست ہوا تو آپ کی خدمت میں ہی رہنے لگ گیا اور اپنے وطن واپس نہ گیا۔وہ شخص اتنا اجد تھا کہ دو چار آنے لے کر دال میں مٹی کا تیل ملا کر پی لیا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسے کبھی کبھی بٹالہ بیٹی چھڑانے کے لئے بھیج دیا کرتے تھے اور بٹالہ ٹیشن پر روزانہ مولوی محمد حسین صاحب اس کے لئے جایا کرتے تھے کہ جو لوگ قادیان جا رہے ہوں انہیں ورغلانے کی کوشش کریں۔