تذکار مہدی — Page 406
تذکار مهدی ) 6406 ☀ روایات سید نا محمود ) ایک دن اتفاق ایسا ہوا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو قادیان جانے والا کوئی شخص نہ ملا انہوں نے پیرے کو ہی پکڑ لیا اور کہنے لگے۔پیرے کیا تیری عقل ماری گئی ہے۔تو مرزا صاحب کے پاس کیوں بیٹھا ہے۔وہ تو جھوٹا آدمی ہے۔پیرا کہنے لگا مولوی صاحب میں تو جاہل ہوں اور پڑھا لکھا نہیں۔لیکن ایک بات جانتا ہوں اور وہ یہ کہ مرزا صاحب اپنے گھر میں بیٹھے رہتے ہیں اور لوگ آپ سے ملنے کے لئے دور دور سے آتے ہیں۔بعض دفعہ وہ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں یا مجھے ابھی فرصت نہیں اور لوگ پھر بھی آپ کے دروازہ کو نہیں چھوڑتے۔دوسری طرف میں دیکھتا ہوں کہ آپ روزانہ یہاں آکر لوگوں کو قادیان جانے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور شاید اس کوشش میں آپ کی جوتیاں بھی گھس گئی ہوں گی۔مگر لوگ پھر بھی قادیان جاتے ہیں۔اس سے میں سمجھتا ہوں کہ مرزا صاحب ضرور بچے اور راست باز ہیں تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو خود بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دوست تھے اور ان کے والد بھی آپ کے دوست تھے۔انہوں نے بھی کہا تھا کہ میں نے اس شخص کو بڑھایا ہے اور اب میں ہی اس کو نیچے گراؤں گا۔لیکن خدا تعالیٰ نے اس کے نام کو تو مٹا دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام کو دنیا میں پھیلا دیا۔بعد میں اس کا ایک بیٹا آریہ ہو گیا تھا۔میں نے اسے قادیان بلایا اور اسے دوبارہ مسلمان کیا۔مولوی محمد حسین صاحب نے شکریہ کا خط بھی مجھے لکھا تو جماعت کانٹوں پر سے گذرتی ہوئی اپنی اس حیثیت کو پہنچی ہے اور یہ چیز بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے شامل حال ہے۔لیکن اس فضل کو دائمی طور پر حاصل کرنے کے لئے جماعت کو ہمیشہ دعاؤں میں لگے رہنا چاہئے۔بے شک دنیا کی نظروں میں ہم نے عظیم الشان کام کیا ہے۔لیکن ہمارا کام ابھی بہت باقی ہے۔ہم نے ساری دنیا کومسلمان بنانا ہے اور یہ کام بہت کٹھن ہے اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ہماری زندگی میں ہمیں وہ دن دکھائے۔جب یہ کام پورا ہو جائے اور ساری دنیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے اور اسلام امریکہ میں بھی پھیل جائے۔یورپ میں بھی پھیل جائے۔روس میں بھی پھیل جائے۔چین میں بھی پھیل جائے۔ہندوستان میں بھی پھیل جائے۔دلوں کا پھیر نا اسی کا کام ہے۔کسی انسان کا کام نہیں۔اس لئے ہمیں خدا تعالیٰ کے حضور ہی جھکنا چاہئے اور اس سے مدد طلب کرنی چاہئے کیونکہ مشکلات کو آسان کرنا اسی کا کام ہے۔(الفضل 30 مئی 1959 ءجلد 48/13 نمبر 127 صفحہ 4)