تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 862

تذکار مہدی — Page 404

تذکار مهدی ) 404 روایات سید نا محمود جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ان کے متعلق ایک ریزولیوشن پاس ہوا تو میں نے انہیں جماعت سے خارج کر دیا۔اس موقعہ پر ایک دوست جو مخلص تھے مگر بات جلدی نہیں سمجھتے تھے کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے یہ بڑے بزرگ صحابی ہیں۔انہیں جماعت سے نہ نکالیں۔اس پر میں کھڑا ہو گیا اور میں نے کہا کہ مولوی صاحب پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجھے جو خلیفہ ہوں معزول کر دیں اور مولوی محمد احسن صاحب کو جماعت میں رکھ لیں۔اس پر وہ دوست کہنے لگے۔اچھا اگر یہ بات ہے تو پھر نکال دیں۔مولوی محمد احسن صاحب کی طبیعت بھی ایسی ہی تھی ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بسراواں کی طرف سیر کے لئے تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کے کلام میں اور بندہ کے کلام میں بڑا فرق ہوتا ہے۔آپ نے اپنا ایک الہام سنایا اور فرمایا دیکھ لو یہ بھی ایک کلام ہے اور اس کے مقابل پر حریری کا بھی کلام موجود ہے۔مولوی محمد احسن صاحب نے بات کا آخری حصہ غور سے نہ سنا اور الہام کے متعلق خیال کر لیا کہ یہ حریری کا کلام ہے اور کہنے لگے بالکل لغو ہے۔بالکل لغو ہے لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ تو خدا تعالیٰ کا الہام ہے۔تو مولوی محمد احسن صاحب کہنے لگے سبحان اللہ کیا ہی عمدہ کلام ہے۔اسی قسم کی طبیعت اس دوست کی بھی تھی۔جب ریزولیوشن پاس ہوا تو وہ دوست کہنے لگے۔یہ پرانے صحابی ہیں انہیں جماعت سے نہ نکالا جائے۔مگر جب میں نے کہا کہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ مجھے جو خلیفہ ہوں معزول کر دیا جائے اور انہیں جماعت میں رکھ لیا جائے تو وہ کہنے لگے۔اچھا پھر انہیں جماعت سے نکال دیں۔تو یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جنہیں قادیان کے رہنے والے بھی نہیں جانتے تھے۔آپ کا نام دنیا کے ہر ملک میں پھیلا اور آج آپ کو ماننے والے دنیا کے کونہ کونہ میں پائے جاتے ہیں قادیان میں ایک سکھ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ کے تایا مرزا غلام قادر صاحب تو بہت مشہور تھے اور ایک بڑے عہدہ پر فائز تھے۔لیکن مرزا غلام احمد صاحب غیر معروف تھے۔انہیں کوئی جانتا نہیں تھا۔میرے والد ایک دفعہ مرزا غلام مرتضی صاحب کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ سنا ہے آپ کا ایک اور بیٹا بھی ہے وہ کہاں ہے۔انہوں نے کہا وہ تو سارا دن مسجد میں پڑا رہتا ہے اور قرآن پڑھتا رہتا ہے۔مجھے اس کا بڑا فکر ہے کہ وہ کھائے گا کہاں سے۔تم اس کے پاس جاؤ اور اسے سمجھاؤ کہ دنیا کا بھی کچھ فکر کرو۔میں چاہتا ہوں کہ وہ کوئی نوکری کر لے۔لیکن جب