تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 862

تذکار مہدی — Page 378

تذکار مهدی ) 378 روایات سید نا محمودی کے ایمان میں کوئی نقص واقع ہو چکا ہو ایسا نہیں تھا جس کے دل میں کبھی بھی یہ خیال آیا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو فوت ہو جائیں گے اور ہم آپ کے پیچھے زندہ رہ جائیں گے چھوٹے کیا اور بڑے کیا، بچے کیا اور بوڑھے کیا ، مرد کیا اور عورتیں کیا سب یہی سمجھتے تھے کہ ہم پہلے فوت ہوں گے اور حضرت صاحب زندہ رہیں گے۔غرض کچھ شدت محبت کی وجہ سے اور کچھ اس تعلق کی عظمت کی وجہ سے جو نبی کو خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ معلوم نہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کتنی لمبی عمر دے گا۔چاہے کوئی شخص یہ خیال نہ کرتا ہو کہ یہ نبی ہمیشہ زندہ رہے گا مگر یہ خیال ضرور آتا ہے کہ ہم پہلے فوت ہوں گے اور خدا تعالیٰ کا نبی دنیا میں زندہ رہے گا۔چنانچہ بسا اوقات اٹھارہ اٹھارہ بیس بیس سال کے نوجوان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوتے اور نہایت لجاجت سے عرض کرتے کہ حضور ہمارا جنازہ خود پڑھائیں اور ہمیں تعجب آتا کہ یہ تو ابھی نوجوان ہیں اور حضرت صاحب ستر برس سے اوپر کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اس کے علاوہ آپ بیمار بھی رہتے ہیں مگر یہ کہتے ہیں کہ ہمارا جنازہ آپ پڑھا ئیں۔گویا انہیں یقین ہے کہ حضرت صاحب زندہ رہیں گے اور وہ آپ کے سامنے فوت ہوں گے۔اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب وفات پاگئے تو دس پندرہ دن تک سینکڑوں آدمیوں کے دلوں میں کئی دفعہ یہ خیال آتا کہ آپ ابھی فوت نہیں ہوئے۔میرا اپنا یہ حال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے تیسرے دن میں ایک دوست کے ساتھ باہر سیر کے لئے گیا اور دارالانوار کی طرف نکل گیا۔ان دنوں ایک اعتراض کے متعلق بڑا چرچا تھا اور سمجھا جاتا تھا کہ وہ بہت ہی اہم ہے۔راستہ میں میں نے اس اعتراض پر غور کرنا شروع کر دیا اور خاموشی سے سوچتا چلا گیا۔مجھے یک دم اس اعتراض کا ایک نہایت ہی لطیف جواب سو جھ گیا اور میں نے زور سے کہا کہ مجھے اس اعتراض کا جواب مل گیا ہے۔اب میں گھر چل کر حضرت صاحب سے اس کا ذکر کروں گا اور آپ کو بتاؤں گا کہ آپ کی وفات پر جو فلاں اعتراض دشمنوں نے کیا ہے اس کا یہ جواب ہے حالانکہ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو وفات پائے تین دن گزر چکے تھے۔تو وہ لوگ جنہوں نے اس عشق کا مزا چکھا ہوا ہے وہ جانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں وہ کیا خیال کرتے تھے اور آپ کی وفات پر اُن کی کیا قلبی کیفیات تھیں۔یہی حال صحابہ کا تھا۔انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو عشق تھا اُس کی مثال تاریخ کے صفحات