تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 862

تذکار مہدی — Page 379

تذکار مهدی ) 6 379 ☀ روایات سید نا محمود میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔اس عشق کی وجہ سے صحابہ کے لئے یہ تسلیم کرنا سخت مشکل تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جائیں گے اور وہ زندہ رہیں گے۔یہ نہیں کہ وہ آپ کو خدا سمجھتے تھے، وہ سمجھتے تو آپ کو انسان ہی تھے مگر شدتِ محبت کی وجہ سے خیال کرتے تھے کہ ہماری زندگی میں ایسا نہیں ہو سکتا۔چنانچہ آپ کی وفات پر جو واقعہ ہوا وہ اس حقیقت کی ایک نہایت واضح دلیل ہے۔(انوار العلوم جلد 15 صفحہ 473،472) تکالیف ،مصائب اور آلام سے گھبرانا نہیں چاہئے اللہ تعالیٰ کے مرسل جب آتے ہیں اُس وقت ہر شخص جو ان کی جماعت میں داخل ہوتا ہے یہ سمجھتا ہے کہ دین کا کام میرے سوا اور کسی نے نہیں کرنا جب وہ یہ سمجھ لے تو وہ اس کی انجام دہی کے لئے اپنی ساری قو تیں صرف کر دیتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ وہ مجنوں بن جاتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فوت ہوئے تو میں نے اس قسم کی آوازیں سنیں کہ آپ کی وفات بے وقت ہوئی ہے ایسا کہنے والے یہ تو نہیں کہتے تھے کہ نَعُوذُ بِاللهِ آپ جھوٹے ہیں مگر یہ کہتے تھے کہ آپ کی وفات ایسے وقت میں ہوئی ہے جبکہ آپ نے خدا تعالیٰ کا پیغام اچھی طرح نہیں پہنچایا اور پھر آپ کی بعض پیشگوئیاں بھی پوری نہیں ہوئیں۔میری عمر اُس وقت اُنیس سال کی تھی۔میں نے جب اس قسم کے فقرات سنے تو میں آپ کی لاش کے سرہانے جا کر کھڑا ہو گیا اور میں نے خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے دعا کی کہ اے خدا! یہ تیرا محبوب تھا جب تک یہ زندہ رہا اس نے تیرے دین کے قیام کے لئے بے انتہاء قربانیاں کیں اب جبکہ اس کوٹو نے اپنے پاس بلا لیا ہے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس کی وفات بے وقت ہوئی ہے ممکن ہے ایسا کہنے والوں یا ان کے باقی ساتھیوں کے لئے اس قسم کی باتیں ٹھوکر کا موجب ہوں اور جماعت کا شیرازہ بکھر جائے اس لئے اے خدا! میں تجھ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت بھی تیرے دین سے پھر جائے تو میں اس کے لئے اپنی جان لڑا دوں گا۔اُس وقت میں نے سمجھ لیا تھا کہ یہ کام میں نے ہی کرنا ہے اور یہی ایک چیز بھی جس نے 19 سال کی عمر میں ہی میرے دل کے اندر ایک ایسی آگ بھر دی کہ میں نے اپنی ساری زندگی دین کی خدمت پر لگا دی اور باقی تمام مقاصد کو چھوڑ کر صرف یہی ایک مقصد اپنے سامنے رکھ لیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام