تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 862

تذکار مہدی — Page 377

تذکار مهدی ) +377 روایات سید نا محمود جماعت کو حاصل نہیں۔ہر شخص اقرار کرے گا کہ اس سے درجنوں گنے زیادہ طاقت اس وقت جماعت کو حاصل ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ مسٹر جناح کی وفات کے بعد اگر وہ مسلمان جو واقعہ میں ان سے محبت رکھتے تھے اور ان کے کام کی قدر کو پہچانتے تھے۔بچے دل سے یہ عہد کر لیں کہ جو منزل پاکستان کی انہوں نے تجویز کی تھی۔وہ اس سے بھی آگے اُسے لے جانے کی کوشش کریں گے اور اس عہد کے ساتھ ساتھ وہ پوری تن دہی سے اس کو نباہنے کی کوشش بھی کریں۔تو یقیناً پاکستان روز بروز ترقی کرتا چلا جائے گا اور دنیا کی مضبوط ترین طاقتوں میں سے ہو جائے گا۔چونکہ میرے پردادا اور نظام الملک کو ایک ہی سال میں خطاب اور عہدہ ملا تھا۔اس لئے مجھے اس خاندان کی تاریخ کے ساتھ کچھ دلچسپی رہی ہے۔1707ء میں ہی ان کو خطاب ملا۔ہے اور 1707ء میں ہی میرے پردادا مرزا فیض محمد صاحب کو خطاب ملا تھا۔ان کو نظام الملک اور میرے پردادا کو عضدالدولہ۔اس وقت میرے پاس کا غذات نہیں ہیں۔جہاں تک عہدے کا سوال ہے۔غالباً نظام الملک کو پہلے پانچ ہزاری کا عہدہ ملا تھا۔لیکن مرزا فیض محمد صاحب کو مفت ہزاری کا عہدہ ملا تھا۔اس وقت نظام الملک با وجود دکن میں شورش کے دلی میں بیٹھے رہے اور تب دکن گئے تھے جب دکن کے فسادات مٹ گئے تھے۔سلطان حید ر الدین کی جنگوں میں بھی حیدر آباد نے کوئی اچھا نمونہ نہیں دکھایا تھا۔مرہٹوں کی جنگوں میں بھی اس کا رویہ اچھا نہیں تھا۔انگریزوں کے ہندوستان میں قدم جمنے میں بھی حیدر آباد کی حکومت کا بہت کچھ دخل تھا۔مگر جہاں بہادری کے مقابلہ میں نظام کبھی اچھے ثابت نہیں ہوئے وہاں عام دور اندیشی اور انصاف اور علم پروری میں یقیناًیہ خاندان نہایت اعلیٰ نمونے دکھاتا رہا ہے اور اسی وجہ سے کسی اور ریاست کے باشندوں میں اپنے رئیس سے اتنی محبت نہیں پائی جاتی جتنی کہ نظام کی رعایا میں نظام کی پائی جاتی ہے۔انصاف کے معاملہ میں میرا اثر یہی رہا ہے کہ حیدر آباد کا انصاف برطانوی راج سے بھی زیادہ اچھا تھا۔ہندو مسلمان کا سوال کبھی نظاموں نے اٹھنے نہیں دیا اور ان خوبیوں کی وجہ سے وہ ہمیشہ ہی ہندوستان کے مسلمانوں میں مقبول رہے۔(الفضل 21 ستمبر 1948 ء جلد 2 نمبر 24 صفحہ 4) ایک ذاتی تجربہ ہم میں سے کوئی احمدی سوائے اس کے کہ جس کے دل میں خرابی پیدا ہو چکی ہو یا جس