تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 862

تذکار مہدی — Page 352

تذکار مهدی ) جماعت احمدیہ کی ترقی 352 روایات سید نا محمودی تم اس بات سے مت ڈرو کہ اگر یہ لوگ علیحدہ ہو گئے تو چندے کم ہو جائیں گے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی کیا تھا تو اس وقت کتنے لوگ چندہ دینے والے تھے۔مگر پھر اللہ تعالیٰ نے اتنی بڑی جماعت پیدا کر دی کہ اب صدر انجمن احمدیہ کا سالانہ بجٹ سترہ لاکھ روپیہ کا ہوتا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ دو چار سال میں ہمارا بجٹ پچاس ساٹھ لاکھ روپیہ تک پہنچ جائے گا۔پس اگر ایک شخص سے چل کر ہماری جماعت کو اتنی ترقی حاصل ہوئی ہے کہ لاکھوں تک ہمارا بجٹ جا پہنچا ہے۔تو اگر یہ دس پندرہ آدمی نکل جائیں گے تو کیا ہو جائے گا۔ہمیں تو یقین ہے کہ اگر ایک آدمی نکلے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ ہمیں ہزار دیدے گا پس ہمیں ان کے علیحدہ ہونے کا کوئی فکر نہیں۔ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ یہ صرف نام کے احمدی نہ ہوں بلکہ عملی طور پر بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے ہوں۔دوران سر کا عارضہ ( روزنامه الفضل 27 جون 1958 ء جلد 47/12 نمبر 149 صفحہ 5) مجھے عید کے قبل سے دوران سر کی تکلیف ہے۔بعض دفعہ تو نہ بیٹھا ہوا اُٹھ کر کھڑا ہوسکتا ہوں اور نہ کھڑا ہوا بیٹھ سکتا ہوں۔فورا سر چکرا جاتا ہے اور مجھے کسی چیز کا سہارا لے کر اُس حالت کو جس میں میں ہوتا ہوں بدلنا پڑتا ہے۔ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس بیماری میں زیادہ بولنا اور حرکت کرنا منع ہے۔جہاں تک ہو سکے لیٹے رہنا چاہیے لیکن مجھے لیٹے رہنے یا خاموش رہنے کا بھی موقع نصیب نہیں ہوسکتا اور یوں بھی اس بیماری کا مجھ پر ایک اثر رہتا ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی دوران سر کی تکلیف تھی اور خاندانی مرض ہونے کی وجہ سے اس کے مزمن اور کرانک (CHRONIC) ہونے کا ڈر رہتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی آخری عمر میں چار پانچ سال باہر نماز کے لیے بھی نہیں آسکتے تھے۔1905 ء کے بعد آپ گھر سے باہر بہت کم نکلتے تھے اور بہت کم بول سکتے تھے۔گو بعض دفعہ اگر موقع ہوتا تو باتیں کرنی بھی پڑتی تھیں مثلاً اگر کوئی اجتماع ہو جاتا یا باہر سے کچھ لوگ آ جاتے تو آپ باتیں کر بھی لیتے لیکن عام طور پر آپ بہت کم بولتے تھے۔شام کے وقت آپ کو یہ دورہ عام ہوتا تھا۔اس مرض کے لیے