تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 862

تذکار مہدی — Page 351

تذکار مهدی ) 351 روایات سیّد نا محمود نے جب وفات پائی تو میرے گھر میں سوائے نصف وسق جو کے اور کوئی چیز کھانے کی نہیں تھی مگر اُسی نصف وسق جو میں اللہ تعالیٰ نے اس قدر برکت پیدا کی کہ میں ایک عرصہ دراز تک اُس میں سے کھاتی چلی گئی۔آخر ایک دفعہ مجھے خیال آیا کہ تول کر دیکھوں کہ کتنے جو ہیں جب میں نے انہیں تو لا تو اُس کے بعد وہ جو ختم ہو گئے۔( بخاری کتاب الجہاد باب النفقة نساء النبي بعد وفاته ) وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بھی اس قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔آپ اکثر مشک استعمال فرمایا کرتے تھے۔میں نے بھی اخبار میں اعلان شائع کرایا ہے کہ مجھے خالص مشک کی ضرورت ہے۔وہ لوگ جو ایسے علاقوں میں رہتے ہیں۔جہاں مشک دستیاب ہو سکتا ہے۔اگر وہ خالص مشک کے تین چار نافے خرید کر بھجوا دیں اور مجھے قیمت کی اطلاع دے دیں۔تو میں ان کو قیمت بھیجوا دوں گا کیونکہ آج کل مجھے شدید سردی محسوس ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے مشک کھانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی سردی محسوس ہوتی تھی۔اس لئے آپ بھی مشک کھایا کرتے تھے۔آپ مشک کی ایک شیشی بھر کر جیب میں رکھ لیتے اور ضرورت کے وقت استعمال کر لیا کرتے آپ فرمایا کرتے تھے کہ ایک شیشی دو دو سال تک چلی جاتی ہے۔لیکن جب خیال آتا ہے کہ مشک تھوڑی رہ گئی ہوگی اور شیشی دیکھتا ہوں تو وہ ختم ہو جاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو غیب سے رزق بھیجتا ہے اور اس کے رزق بھیجنے کے طریق نرالے ہیں۔پس تم اس ذات سے مانگو جس کا خزانہ خالی نہیں ہوتا۔انجمن سے کیوں مانگتے ہو۔جس کے پاس اتنی رقم ہی نہیں کہ وہ تمہارے گزارے بڑھا سکے۔پس تم خدا پرست بن جاؤ۔خدا تعالیٰ غیب سے تمہیں رزق بھیج دے گا۔صدر انجمن احمد یہ کے پاس اتنا روپیہ نہیں کہ وہ تمہیں زیادہ گزارے دے سکے۔آخر اس کے پاس جو روپیہ آتا ہے وہ جماعت کے چندوں سے ہی آتا ہے اور وہ اس قدر زیادہ نہیں ہوتا۔کہ شاہدین کو زیادہ گزارے دیئے جاسکیں۔پھر صدرانجمن احمد یہ کیمیا گر نہیں اور نہ ہی وہ ملمع ساز ہے کہ خود سکہ کو سونا بنالے یا ملمع کر کے روپیہ دے دے۔خدا تعالیٰ روپیہ بھیجے گا تو اس نے اسے خزانہ میں محفوظ نہیں رکھنا۔اس نے بہر حال اسے خرچ کرنا ہے۔اس لیے جب اس کے پاس کافی روپیہ آئے گا تو وہ تمہارے گزارے بھی بڑھا دے گی لیکن پھر بھی اصل طریق یہی ہے کہ تم خدا تعالیٰ سے مانگو جس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔خدا تعالیٰ جماعت کے خزانہ میں روپیہ لائے گا تو وہ تمہیں بھی گزارے دے گی۔آخر وہ کون بیوقوف ہے جو خزانہ میں روپیہ ہوتے ہوئے بھی کارکنوں کو اچھے گزارے دینے میں کوتاہی کرے گا۔(الفضل 18 فروری 1956ءجلد 45/1 نمبر 42 صفحہ 5 )