تذکار مہدی — Page 353
تذکار مهدی ) 353 روایات سید نامحمود ہلکا چلنا پھرنا مفید ہے لیکن یہ چیز بھی بعض لوگوں کے لیے ابتلاء کا موجب بن جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی عصر سے شام تک باہر سیر کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔میں نے بھی دیکھا ہے کہ اگر آہستہ آہستہ چہل قدمی کی جائے تو صحت پر اس مرض کا زیادہ اثر معلوم نہیں ہوتا۔لیکن اگر بیٹھے ہو تو کھڑے ہو جاؤ یا کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ یا لیٹے ہوئے کروٹ بدل لو تو اس مرض کا اثر زور سے ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تو جماعت بہت تھوڑی تھی اور اکثر لوگ ٹھوکریں کھا کھا کر احمدیت میں داخل ہوئے تھے۔اس لیے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عصر سے شام تک سیر کے لیے چلے جانے اور پھر شام کی نماز میں حاضر نہ ہو سکنے پر معترض نہیں ہوتے تھے۔لیکن یہ بات آج کل کے لوگوں کے لئے زیادہ ٹھوکر کا موجب ہے کہ عصر سے شام تک میں باہر سیر کر کے آؤں اور پھر کہوں کہ میں نماز کے لیے مسجد میں نہیں آسکتا کمزور لوگ اس بات کی برداشت نہیں کر سکیں گے۔جماعتی ترقیات کی پیشگوئی ( خطبات محمود جلد 30 صفحہ 345 تا 346) | حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں یہ کیفیت تھی کہ کئی مقامات پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ لکھا ہے کہ اب تو ہم پر اتنا بوجھ ہے کہ پندرہ سو روپیہ ایک مہینہ کا خرچ ہے۔گویا اُس زمانہ میں اٹھارہ ہزار روپیہ کا سالانہ خرچ تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسے بڑا بوجھ قرار دیتے تھے۔لیکن اس زمانہ میں بعض ایسے احمدی ہیں کہ اُن میں سے ایک ایک اس بوجھ کو آسانی کے ساتھ اُٹھا سکتا ہے۔اُس وقت بعض دفعہ ایسی حالت ہوتی تھی کہ لنگر میں آٹا نہیں ہوتا تھا اور منتظمین کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں روپیہ کے لیے درخواست کرنی پڑتی تھی۔1905ء میں جب زلزلہ آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کچھ عرصہ کے لئے باغ میں تشریف لے گئے۔تو مجھے خوب یاد ہے۔ایک دن آپ باہر سے آئے تو اللہ تعالیٰ کی بڑی حمد و ثناء کر رہے تھے۔اس وقت آپ نے حضرت اماں جان کو بلایا اور فرمایا یہ گھری لے لو اور دیکھو اس میں کتنی رقم ہے؟ حضرت اماں جان نے کمرہ سے باہر نکل کر بتایا کہ اس کپڑے میں چار سو یا پانچ سو کی رقم ہے۔آپ نے فرمایا آج ہی لنگر والے