تذکار مہدی — Page 315
تذکار مهدی ) 315 روایات سید نا محمودی علیہ الصلوۃ والسلام کا کوٹ پہنا اور خدا تعالیٰ کے حضور میں خوب رویا اور میں نے عہد کیا کہ میں آئندہ نماز کبھی نہیں چھوڑوں گا۔خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس عہد اور اقرار کے بعد میں نے کبھی کوئی نماز نہیں چھوڑی۔لیکن پھر بھی چونکہ میں بچہ تھا اور بچپن میں کھیل کود کی وجہ سے بعض دفعہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں سنتی ہو جاتی ہے۔اس لئے ایک دفعہ کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس میری شکایت کی کہ آپ اسے سمجھا ئیں۔یہ نماز با جماعت پوری پابندی سے ادا کیا کرے۔میر محمد اسحاق صاحب مجھ سے دوسال چھوٹے ہیں اور بچپن میں چونکہ ہم اکٹھے کھیلا کرتے تھے اور ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب کی طبیعت بہت تیز تھی اس لئے وہ میر محمد اسحاق صاحب کو ناراض ہوا کرتے تھے اور سختی سے انہیں نماز پڑھنے کے لئے کہا کرتے تھے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس کسی نے میرے متعلق یہ شکایت کی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ایک تو میر صاحب کی نماز پڑھتا ہے۔اب میں نہیں چاہتا کہ دوسرا میری نماز پڑھے۔میں یہی چاہتا ہوں کہ وہ خدا کی نماز پڑھا کرے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے نماز پڑھنے کے متعلق کبھی نہیں کہا تھا میں خود ہی تمام نمازیں پڑھ لیا کرتا تھا۔لیکن اس دن شائد میری غفلت کو اللہ تعالیٰ دور کرنا چاہتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے دیکھ کر کہا کہ محمود ادھر آؤ! میں گیا تو آپ نے فرمایا۔تم جمعہ پڑھنے نہیں گئے ؟ میں نے کہا میں گیا تو تھا مگر معلوم ہوا کہ مسجد بھری ہوئی ہے وہاں نماز پڑھنے کے لئے کوئی جگہ نہیں۔میں نے کہنے کو تو یہ کہہ دیا مگر اپنے دل میں سخت ڈرا کہ میں نے دوسرے کی بات پر کیوں اعتبار کر لیا۔معلوم نہیں اس نے جھوٹ کہا ہے یا سچ کہا ہے اگر اس نے سچ بولا ہے تب تو خیر لیکن اگر اس نے جھوٹ بولا ہے تو چونکہ اسی کی بات میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے بیان کر دی ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجھ سے ناراض ہوں گے کہ تم نے جھوٹ کیوں بولا۔غرض میں اپنے دل میں سخت خائف ہوا کہ آج نا معلوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیا فرماتے ہیں۔اتنے میں نماز پڑھ کر مولوی عبد الکریم صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عیادت کے لئے آئے میں قریب ہی ادھر ادھر منڈلا رہا تھا کہ دیکھو آج کیا بنتا ہے۔ان کے آتے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے سوال کیا کہ آج جمعہ میں لوگ زیادہ آئے تھے اور مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے گنجائش نہیں رہی تھی۔میرا دل تو یہ سنتے ہی بیٹھ گیا کہ خبر نہیں اس شخص نے مجھ