تذکار مہدی — Page 316
تذکار مهدی ) 316 روایات سید نا محمود سے سچ کہا تھا یا جھوٹ کہا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے میری عزت رکھ لی۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم میں خدا تعالیٰ کے احسانات پر شکر ادا کرنے کا مادہ بہت زیادہ پایا جا تا تھا۔انہوں نے یہ سنا تو کہا کہ حضور اللہ کا بڑا احسان تھا۔مسجد خوب لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔اس میں بیٹھنے کے لئے ذرا بھی گنجائش نہیں رہی تھی۔تب میں نے سمجھا کہ اس احمدی نے جو کچھ کہا تھا وہ سچ تھا۔تو اللہ تعالیٰ نے ہماری ترقی کا یہی ذریعہ رکھا ہے۔کہ ہماری مسجد میں بڑھتی جائیں اور لوگوں سے ہر وقت آبادر ہیں۔جب تک تم مسجدوں کو آباد رکھو گے۔اس وقت تک تم بھی آباد رہو گے اور جب تم مسجدوں کو چھوڑ دو گے اس وقت اللہ تعالیٰ تم کو بھی چھوڑ دے گا۔( الفضل جلد 33 نمبر 61 مورخہ 14 مارچ 1944 ء صفحہ 10 ) بزرگ کی قبر پر دعا کے لئے تشریف لے جانا مجھے بتایا گیا ہے کہ بعض لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار سے تبرک کے طور پر مٹی لے جاتے ہیں۔بعض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر پھول چڑھا جاتے ہیں۔یہ سب لغو باتیں ہیں ان سے فائدہ کچھ نہیں ہوتا اور ایمان ضائع چلا جاتا ہے۔بھلا قبر پر پھول چڑھانے سے مُردے کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ اُن کی روحیں تو اس قبر میں نہیں ہوتیں وہ تو اور مقام پر ہوتی ہیں۔ہاں اس میں شبہ نہیں کہ روح کو اس ظاہری قبر کے ساتھ ایک لگاؤ اور تعلق ضرور ہوتا ہے اور گومرنے والوں کی روحیں کسی جہان میں ہوں اللہ تعالیٰ ان ظاہری قبروں سے بھی ان کی ایک رنگ میں وابستگی پیدا کر دیتا ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ ایک بزرگ کی قبر پر دعا کرنے کے لئے تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا جب میں دعا کر رہا تھا تو صاحب قبر اپنی قبر سے نکل کر میرے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔مگر اس سے مراد بھی یہ نہیں کہ اُن کی روح اس مٹی کی قبر سے باہر نکلی بلکہ ظاہری تعلق کی وجہ سے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مٹی کی قبر پر کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اُس بزرگ کو اپنی اصلی قبر سے آپ تک آنے کی اجازت دے دی۔وہی قبر جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ثُمَّ آمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ (عبس : 22) اُسی قبر میں مرنے کے بعد انسان کی روح رکھی جاتی ہے۔ورنہ یہ قبریں دنیا میں ہمیشہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد کھودی جاتی ہیں اور ان کے اندر سے کچھ بھی نہیں نکلتا۔بلکہ ایک قبر کا اوپر کا نشان جب مٹ جاتا ہے تو اُسی جگہ دوسرا شخص دفن کر دیا جاتا ہے۔پھر کچھ تو کر