تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 862

تذکار مہدی — Page 265

تذکار مهدی ) 265 روایات سید نا محمود میں نے کالج کی بنیاد رکھی تھی کیونکہ اب وقت آ گیا تھا کہ ہماری آئندہ نسل کی اعلیٰ تعلیم ہمارے ہاتھ میں ہو۔ایک زمانہ وہ تھا کہ ہماری جماعت میں بہت چھوٹے عہدوں اور بہت چھوٹی آمد نیوں والے لوگ شامل تھے۔بے شک کچھ لوگ کالجوں میں سے احمدی ہو کر جماعت میں شامل ہوئے۔لیکن وہ حادثہ کے طور پر سمجھے جاتے تھے۔ورنہ اعلیٰ مرتبوں والے اور اعلیٰ آمد نیوں والے لوگ ہماری جماعت میں نہیں تھے سوائے چند محدودلوگوں کے۔ایک تاجر سیٹھ عبدالرحمان حاجی اللہ رکھا صاحب مدراسی تھے لیکن ان کی تجارت ٹوٹ گئی تھی۔ان کے بعد شیخ رحمت اللہ صاحب ہوئے ان کے سوا کوئی بھی بڑا تاجر ہماری جماعت میں نہیں تھا اور نہ کوئی بڑا عہد یدار ہماری جماعت میں شامل تھا یہاں تک کہ حضرت خلیفہ اول ایک دفعہ مجھے فرمانے لگے دیکھو میاں! قرآن کریم اور احادیث سے پتہ لگتا ہے کہ انبیاء پر ابتدا میں بڑے لوگ ایمان نہیں لائے۔چنانچہ یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ایک ثبوت ہے کہ ہماری جماعت میں کوئی بڑا آدمی شامل نہیں۔چنانچہ کوئی ای۔اے سی ہماری جماعت میں داخل نہیں۔گویا اس وقت کے لحاظ سے ای۔اے سی بہت بڑا آدمی ہوتا تھا۔مگر اب دیکھو کئی ای۔اے۔سی یہاں گلیوں میں پھرتے ہیں۔اور انکی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔لیکن ایک زمانہ میں اعلیٰ طبقہ کے لوگوں کا ہماری جماعت میں اس قدر فقدان تھا کہ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ ہماری جماعت میں کوئی بڑا آدمی داخل نہیں۔چنانچہ کوئی ای۔اے۔سی ہماری جماعت میں داخل نہیں۔گویا اس وقت کے لحاظ سے ہماری جماعت ای۔اے سی کی بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔خطبات محمود جلد 27 صفحہ 150 تا 153 ) اليْسَ اللهُ بِكَافِ عَبْدَهُ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ احمدی جماعت پر چاروں طرف سے سختی کی جاتی تھی مولویوں نے فتویٰ دیا کہ احمدیوں کو قتل کر دینا ، ان کے گھروں کو لوٹ لینا، ان کی جائیدادوں کا چھین لینا، ان کی عورتوں کا بلا طلاق دوسری جگہ پر نکاح کر دینا جائز ہی نہیں موجب ثواب ہے اور شریر اور بدمعاش لوگوں نے جو اپنی طمع اور حرص کے اظہار کے لئے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں اس فتوے پر عمل کرنا شروع کر دیا۔احمدی گھروں سے نکالے اور ملا زمتوں سے برطرف کئے