تذکار مہدی — Page 266
تذکار مهدی ) 266 نامحمودی روایات سیّد نا محمود جا رہے تھے ، ان کی جائیدادوں پر جبر قبضہ کیا جارہا تھا اور کئی لوگ ان مخمصوں سے خلاصی کی کوئی صورت نہ پا کر ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے تھے اور چونکہ ہجرت کی جگہ ان کے لئے قادیان ہی تھی ، ان کے قادیان آنے پر مہمان داری کے اخراجات اور بھی ترقی کر گئے تھے۔اس وقت جماعت ایک دو ہزار آدمیوں تک ترقی کر چکی تھی مگر ان میں سے ہر ایک دشمن کے حملوں کا شکار ہو رہا تھا ایک دو ہزار آدمی جو ہر وقت اپنی جان اور اپنی عزت اور اپنی جائیداد اور اپنے مال کی حفاظت کی فکر میں لگے ہوئے ہوں اور رات دن لوگوں کے ساتھ مباحثوں اور جھگڑوں میں مشغول ہوں ان کا تمام دنیا میں اشاعت اسلام کے لئے روپیہ بہم پہنچانا اور دین سیکھنے کی غرض سے قادیان آنے والوں کی مہمان داری کا بوجھ اٹھانا اور پھر اپنے مظلوم مہاجر بھائیوں کے اخراجات برداشت کرنا ایک حیرت انگیز بات ہے۔سینکڑوں آدمی دونوں وقت جماعت کے دستر خوان پر کھانا کھاتے تھے اور بعض غرباء کی دوسری ضروریات کا بھی انتظام کرنا پڑتا تھا۔ہجرت کے لئے آنے والوں کی کثرت اور مہمانوں کی زیادتی سے مہمان خانے کے علاوہ ہر ایک گھر مہمان خانہ بنا ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر کی ہر ایک کوٹھڑی ایک مستقل مکان تھا جس میں کوئی نہ کوئی مہمان یا مہاجر خاندان رہتا تھا، غرض بوجھ انسانی طاقت برداشت سے بہت بڑھا ہوا تھا۔ہر صبح جو چڑھتی اپنے ساتھ تازہ ابتلاء اور تازہ ذمہ داریاں لاتی اور ہر شام جو پڑتی اپنے ساتھ تازہ ابتلاء اور تازہ ذمہ داریاں لاتی مگر اليْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کی نسیم سب فکروں کو خس و خاشاک کی طرح اڑا کر پھینک دیتی اور وہ بادل جو ابتدا ء سلسلہ کی عمارت کی بنیادوں کو اکھاڑ کر پھینک دینے کی دھمکی دیتے تھے تھوڑی ہی دیر میں رحمت اور فضل کے بادل ہو جاتے اور ان کی ایک ایک بوند کے گرتے وقت الیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کی ہمت افزا آواز پیدا ہوتی۔( دعوت الامیر۔انوارالعلوم جلد 7 صفحہ 565-566) حفاظت الہی کا معجزہ ایک مثال حفاظت الہی کی میں حضرت مسیح موعود کی زندگی میں سے بھی پیش کرتا ہوں کنورسین صاحب جو لاء کالج لاہور کے پرنسپل ہیں ان کے والد صاحب سے حضرت صاحب کا بڑا تعلق تھا حتی کہ حضرت مسیح موعود کو کبھی روپیہ کی ضرورت ہوتی تو بعض دفعہ ان سے قرض بھی