تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 862

تذکار مہدی — Page 264

تذکار مهدی ) 264 روایات سید نا محمود غرض آریہ مدرس اس قسم کے اعتراضات کرتے رہتے اور لڑ کے گھروں میں آ آ کر بتاتے کہ وہ یہ اعتراض کرتے ہیں آخر یہ معاملہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا جس طرح بھی ہو سکے جماعت کو قربانی کر کے ایک پرائمری سکول قائم کر دینا چاہئے۔چنانچہ پرائمری سکول کھل گیا اور یہ سمجھا گیا کہ ہماری جماعت نے انتہائی مقصد حاصل کر لیا ہے۔اس عرصہ میں ہمارے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب مرحوم و مغفور ہجرت کر کے قادیان آگئے۔انہیں سکولوں کا بڑا شوق تھا چنانچہ انہوں نے ملیر کوٹلہ میں بھی ایک مڈل سکول قائم کیا ہوا تھا انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں اس کو مڈل کر دیا جائے میں وہاں سکول کو بند کر دوں گا اور وہ امداد یہاں دے دیا کروں گا۔چنانچہ قادیان میں مڈل سکول ہو گیا۔پھر بعد میں کچھ نواب محمد علی خان صاحب اور کچھ حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ کے شوق کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا کہ یہاں ہائی سکول کھولا جائے۔چنانچہ پھر یہاں ہائی سکول کھول دیا گیا۔لیکن یہ ہائی سکول پہلے نام کا تھا کیونکہ اکثر پڑھانے والے انٹرنس پاس تھے اور بعض شائد انٹرنس فیل بھی۔بہر حال ہائی سکول کا نام ہو گیا۔زیادہ خرچ کرنے کی جماعت میں طاقت نہ تھی اور نہ ہی یہ خیال پیدا ہو سکتا تھا۔لیکن آخر وہ وقت بھی آگیا کہ گورنمنٹ نے اس بات پر خاص زوردینا شروع کیا کہ سکول اور بورڈنگ بنائے جائیں۔نیز یہ کہ سکول اور بورڈنگ بنانے والوں کو امداد دی جائے گی۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول کے عہد خلافت میں یہ سکول بھی بنا اور اور بورڈنگ بھی پھر آہستہ آہستہ عملہ میں اصلاح شروع ہوئی۔اور طلباء بڑھنے لگے۔پہلے ڈیڑھ سو تھے۔پھر تین چارسو ہوئے پھر سات آٹھ سو ہو گئے اور مدتوں تک یہ تعداد رہی۔اب تین چار سالوں میں آٹھ سو سے یک دم ترقی کر کے سکول کے لڑکوں کی تعداد سترہ سو ہو گئی ہے اور میں نے سنا ہے کہ ہزار سے اوپر لڑکیاں ہو گئی ہیں۔گویا لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد ملا کر تقریباً تین ہزار بن جاتی ہے۔پھر مدرسہ احمد یہ بھی قائم ہوا اور کالج بھی اب خدا تعالیٰ کے فضل سے مدرسہ احمدیہ میں بھی میری گزشتہ تحریک کے ماتحت طلباء بڑھنے شروع ہو گئے ہیں اور چھپیں تھیں طلباء ہر سال آنے شروع ہوگئے ہیں۔اگر یہ سلسلہ بڑھتا رہا۔تو مدرسہ احمدیہ اور کالج کے طلباء کی تعداد بھی چھ سات سو تک یا اس سے بھی زیادہ تک پہنچ جائے گی اور اس طرح ہمیں سو مبلغ ہر سال مل جائے گا۔جب تک ہم اتنے مبلغین ہر سال حاصل نہ کریں۔ہم دنیا میں صحیح طور پر کام نہیں کر سکتے۔1944ء میں