تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 862

تذکار مہدی — Page 255

تذکار مهدی ) 255 روایات سید نا محمودی ایک دیوار تھی جس نے اُسے دوسرے مذاہب کے حملوں سے بچالیا۔لیکن مولوی ایسے احمق اور بے وقوف نکلے کہ بجائے اِس کے کہ وہ آپ کا شکر یہ ادا کرتے اور زانوئے ادب تہہ کر کے آپ سے کہتے کہ آئیندہ ہم آپ کے بتائے ہوئے دلائل ہی استعمال کیا کریں گے انہوں نے اُلٹا آپ پر کفر کا فتویٰ لگا دیا اور اسلام کی اتنی عظیم الشان خدمت دیکھنے کے باوجود جو رسول کریم ہے کے بعد تیرہ سوسال میں اور کسی نے نہ کی آپ کے خلاف کفر کے فتوے دینے لگے اور اپنی علمیت جتانے لگ گئے اور سمجھنے لگے کہ ہم بڑے آدمی ہیں۔اس پر مرزا صاحب کو غصہ آنا چاہئے تھا اور آیا۔چنانچہ انہوں نے مولویوں سے کہا۔اچھا تم بڑے عالم بنے پھرتے ہوا گر تمہیں اپنی علمیت پر ایسا ہی گھمنڈ ہے تو دیکھ لو کہ حیات مسیح کی عقیدہ قرآن سے اتنا ثابت ہے اتنا ثابت ہے کہ اس کے خلاف حضرت مسیح کی وفات ثابت کرنا ناممکن نظر آتا ہے لیکن میں قرآن سے ہی حضرت مسیح کی وفات ثابت کر کے دکھا تا ہوں اگر تم میں ہمت ہے تو اسکا رڈ کرو۔چنانچہ انہوں نے مولویوں کو ان کی بیوقوفی جتانے کے لئے وفات مسیح کا مسئلہ پیش کر دیا اور قرآن سے اُس کے متعلق ثبوت دینے لگ گئے۔اب مولوی چاہے سارا زور لگالیں ، چاہے اُن کی زبانیں ٹھیس جائیں اور قلمیں ٹوٹ جائیں سارے ہندوستان کے مولوی مل کر بھی مرزا صاحب کے دلائل کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔مرزا صاحب نے انہیں ایسا پکڑا ہے کہ اُن میں سر اُٹھانے کی تاب نہیں رہی۔اب اس کا ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ سارے مولوی مل کر ایک وفد کی صورت میں حضرت مرزا صاحب کے پاس جائیں اور اُن سے کہیں کہ ہم سے آپ پر کفر کا فتویٰ لگانے میں بے ادبی ہو گئی ہے۔ہمیں معاف کیا جائے۔پھر دیکھ لیں مرزا صاحب قرآن سے ہی حیات مسیح ثابت کر کے دکھاتے ہیں یا نہیں؟ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت حیات مسیح کا عقیدہ کتنا یقینی سمجھا جاتا تھا۔(تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 108-107) وفات مسیح کا مسئلہ بنیادی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک صاحب یہاں پڑھا کرتے تھے۔وہ روزانہ یہ بحث کیا کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب تھے۔ان کے سر پر رومی ٹوپی تھی۔ایک دن ایک شخص نے اسے بلایا اور کہا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ آنحضرت سے کو اس کا علم ہوا۔اس شخص نے بغیر کوئی شرم محسوس کئے کہہ دیا کہ ہاں ضرور ہوا۔اس کی وجہ یہی ہے