تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 862

تذکار مہدی — Page 254

تذکار مهدی ) 254 روایات سید نامحمودی جواب سمجھاتا ہے جس کے نتیجہ میں دشمن بالکل ہکا بکا رہ جاتا ہے۔(تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 89-88) وفات مسیح کا مسئلہ حضرت شعیب جب لوگوں سے کہتے کہ تم دوسروں کا مال نہ ٹوٹو۔اپنے مال کو نا جائز کاموں میں صرف نہ کرو تو آپ کی باتوں سے آپ کی قوم حیران ہوتی تھی اور کہتی تھی کہ شعیب پاگل ہو گیا ہے اور دیوانوں کی سی باتیں کرتا ہے۔اس زمانہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کولوگوں نے پاگل کہا۔جب آپ نے وفات مسیح کا مسئلہ دنیا کے سامنے پیش کیا تو مسلمان سمجھ ہی نہ سکے کہ جب 1300 سال سے یہ مسئلہ اُمتِ محمدیہ کے اکا بر پیش کرتے چلے آرہے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں تو وہ فوت کس طرح ہو گئے۔لوگوں کو اس مسئلہ کے متعلق جس قدر یقین اور وثوق تھا وہ اس واقعہ سے اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے کہ پنجاب کے ایک مشہور طبیب جن کی طبی عظمت کے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ جیسے طبیب بھی قائل تھے اور جن کا نام حکیم اللہ دین تھا اور بھیرہ کے رہنے والے تھے ایک دفعہ اُن کے پاس مولوی فضل دین صاحب بھیروی جو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے گہرے دوست اور نہایت مخلص احمدی تھے گئے اور انہیں کچھ تبلیغ کی۔وہ باتیں سُن کر کہنے لگے۔میاں تم مجھے کیا تبلیغ کرتے ہو تم بھلا جانتے ہی کیا ہو اور مجھے تم نے کیا سمجھانا ہے مرزا صاحب کے متعلق تو جو مجھے عقیدت ہے اس کا دسواں بلکہ بیسواں حصہ بھی تمہیں اُن سے عقیدت نہیں ہوگی مولوی فضل دین صاحب یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور انہوں نے سمجھا کہ شاید یہ دل میں احمدی ہیں اس لئے انہوں نے کہا۔اس بات کو سُن کر مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ آپ کو حضرت مرزا صاحب سے عقیدت ہے اور میں خوش ہوں گا اگر آپ کے خیالات سلسلہ کے متعلق کچھ اور بھی سنوں۔وہ کہنے لگے۔آج کل کے جاہل نو جوان بات کی تہہ تک نہیں پہنچتے اور یونہی تبلیغ کرنے کے لئے دوڑ پڑتے ہیں۔اب تم آگئے ہو مجھے وفات مسیح کا مسئلہ سمجھا نے حالانکہ تمہیں معلوم ہی کیا ہے کہ مرزا صاحب کی اس مسئلہ کو پیش کرنے میں حکمت کیا ہے؟ وہ کہنے لگے۔آپ ہی فرمائیے۔انہوں نے کہا سنو! اصل بات یہ ہے کہ مرزا صاحب نے براہین احمدیہ کتاب لکھی۔تیرہ سوسال میں بھلا کوئی مسلمان کا بچہ تھا جس نے ایسی کتاب لکھی ہو مرزا صاحب نے اس میں ایسے ایسے علوم بھر دئیے کہ کسی مسلمان کی کوئی کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی وہ اسلام کے لئے