تذکار مہدی — Page 214
تذکار مهدی ) 214 روایات سیّد نا محمود وہ انہیں مارر ہے تھے اور گوبر اُن کے مونہہ میں ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے تو بجائے اس کے مولوی صاحب انہیں گالیاں دیتے یا شور مچاتے جنہوں نے وہ نظارہ دیکھا ہے بیان کرتے ہیں کہ وہ بڑے اطمینان اور خوشی سے یہ کہتے جاتے تھے کہ سبحان اللہ ! یہ دن کسے نصیب ہوتا ہے یہ دن تو اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے آنے پر ہی نصیب ہوتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے جس نے مجھے یہ دن دکھایا۔نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑی دیر میں ہی جو لوگ حملہ کر رہے تھے اُن کے نفس نے انہیں ملامت کی اور وہ شرمندگی اور ذلت سے آپکو چھوڑ کر چلے گئے۔تو بات یہ ہے کہ جب دشمن دیکھتا ہے کہ یہ لوگ موت سے ڈرتے ہیں تو کہتا ہے آؤ ہم انہیں ڈرائیں! اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ شیطان اپنے اولیاء کو ڈراتا ہے۔پس جب کوئی شخص ڈرتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ شیطانی آدمی ہے لیکن اگر وہ ڈرتا نہیں بلکہ ان حملوں اور تکالیف کو خدا تعالیٰ کا انعام سمجھتا ہے اور کہتا ہے خدا تعالٰی نے اپنے فضل سے مجھے عزت کا مقام عطا فرمایا ہے اور اُس نے مجھ پر احسان کیا ہے کہ میں اُس کی خاطر مار کھا رہا ہوں تو دشمن مرعوب ہو جاتا ہے اور آخر اس کے دل میں ندامت پیدا ہو جاتی ہے۔( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 582 تا 583) جب تم فارغ ہو جاؤ تو اور زیادہ محنت کرو اسلام کے نزدیک آرام منزلِ مقصود نہیں جس کے لئے انسان جد و جہد کرتا ہے بلکہ صحیح کوشش کے ساتھ ساتھ پیدا ہونے والی حسن کا نام ہے۔چنانچہ یہاں اسی مفہوم کو بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے تمہیں حکم دیا۔شیطان سے لڑو اور خوب لڑو تم نے لڑائی کی اور فتح حاصل کی۔آؤ اب اور زیادہ زور سے ہماری طرف دوڑو کیونکہ تمہارے لئے یہی حکم ہے کہ جب تم فارغ ہو جاؤ تو زیادہ کوشش اور مستعدی سے خدا تعالیٰ کی طرف دوڑو۔پس مؤمن کے لئے اس قسم کا آرام کہاں آیا جسے دنیا آرام کہتی ہے۔مجھے اس جگہ پر ایک لطیفہ یاد آ گیا۔مولوی برہان الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نہایت مخلص صحابی تھے اور نہایت خوش مذاق آدمی تھے ان ہی کی وفات اور مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی وفات کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مدرسہ احمدیہ کے قیام کا خیال پیدا ہوا۔وہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آئے اور ذکر کیا کہ