تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 862

تذکار مہدی — Page 213

تذکار مهدی ) 213 روایات سید نا محمود حضرت مسیح موعود علیہ السلام ضرور سیر کے لئے تشریف لے جاتے تو کھلی ہوا کے اندر چلنا پھرنا اور اُس سے فائدہ اُٹھانا دماغ کے لئے بہت مفید ہوتا ہے اور جب تحریک جدید کے بور ڈ ر کھلی ہوا میں رہ کر مشقت کا کام کریں گے تو جہاں ان کی صحت اچھی رہے گی وہاں ان کا دماغ بھی ترقی کرے گا اور وہ دنیا کے لئے مفید وجود بن جائے گا۔( خطبات محمود جلد 16 صفحہ 836 تا 839) حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کی ثابت قدمی دشمن تو یہی چاہتا ہے کہ وہ مومنوں کو مٹا دے اور انہیں غمگین بنادے مگر جب وہ دیکھتا ہے کہ انہیں مارا جاتا ہے تو یہ اور بھی زیادہ دلیر ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں خدا نے ہماری ترقی کے کیسے سامان پیدا کئے ہیں تو اس کا حوصلہ پست ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب سیالکوٹ تشریف لے گئے تو مولویوں نے یہ فتویٰ دیدیا کہ جو شخص مرزا صاحب کے پاس جائیگا یا اُن کی تقریروں میں شامل ہوگا اُس کا نکاح ٹوٹ جائیگا۔یہ کافر اور دجال ہیں ان سے بولنا ان کی باتیں سننا اور انکی کتابیں پڑھنا بالکل حرام ہے بلکہ ان کو مارنا اور قتل کرنا ثواب کا موجب ہے مگر آپ کی موجودگی میں انہیں فساد کی جرات نہ ہوئی کیونکہ چاروں طرف سے احمدی جمع تھے۔انہوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا کہ ان کے جانے کے بعد فساد کیا جائے۔میں بھی اُس وقت آپ کے ساتھ تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہاں سے روانہ ہوئے اور گاڑی میں سوار ہوئے تو دُور تک آدمی کھڑے تھے جنہوں نے پتھر مارنے شروع کر دیئے۔مگر چلتی گاڑی پر پتھر کس طرح لگ سکتے تھے۔شاذونادر ہی ہماری گاڑی کو کوئی پتھر لگتا۔وہ مارتے ہم کو تھے اور لگتا اُن کے کسی اپنے آدمی کو تھا۔پس اُن کا یہ منصوبہ تو پورا نہ ہو سکا۔باقی احمدی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وجہ سے وہاں جمع تھے اُن میں سے کچھ تو ارد گرد کے دیہات کے رہنے والے تھے جو آپ کی واپسی کے بعد ادھر اُدھر پھیل گئے اور جو تھوڑے سے مقامی احمدی رہ گئے یا باہر کی جماعتوں کے مہمان تھے اُن پر مخالفین نے اسٹیشن پر ہی حملے شروع کر دیئے۔اُن لوگوں میں سے جن پر حملہ ہوا ایک مولوی برہان الدین صاحب بھی تھے۔مخالفوں نے ان کا تعاقب کیا۔پتھر مارے اور بُرا بھلا کہا۔اور آخر ایک دوکان میں انہیں گرا لیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ گوبر لاؤ ہم اس کے مونہہ میں ڈالیں۔چنانچہ وہ گو بر لائے اور انہوں نے مولوی برہان الدین صاحب کا منہ کھول کر اُس میں ڈال دیا۔جب رض