تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 862

تذکار مہدی — Page 215

تذکار مهدی ) 215 روایات سید نامحمودی میں نے خواب میں اپنی فوت شدہ ہمشیرہ کو دیکھا ہے کہ وہ مجھ سے ملی ہیں میں نے اُن سے پوچھا کہ بہن بتاؤ وہاں تمہارا کیا حال ہے؟ وہ کہنے لگی خدا نے بڑا فضل کیا ، مجھے اُس نے بخش دیا اور اب میں جنت میں آرام سے رہتی ہوں۔میں نے پوچھا کہ بہن وہاں کرتی کیا ہو؟ وہ کہنے لگی بیر بیچتی ہوں۔مولوی برہان الدین صاحب کہنے لگے۔میں نے کہا ” بھین ساڈی قسمت بھی عجیب ہے سانوں جنت وچ بھی بیر ہی ویچنے پے ان کے خاندان میں چونکہ غربت تھی اس لئے خواب میں بھی ان کا خیال ادھر گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ رویا سن کر فرمایا مولوی صاحب! اس کی تعبیر تو اور ہے مگر خواب میں بھی آپ کو تمسخر ہی سُوجھا اور مذاق کرنا نہ بھولا۔بیر در حقیقت جنتی پھل ہے اور اس سے مراد ایسی کامل محبت ہوتی ہے جو لا زوال ہو کیونکہ سدرہ لا زوال الہی محبت کا مقام ہے پس اس کی تعبیر یہ تھی کہ میں اللہ تعالیٰ کی لازوال محبت لوگوں میں تقسیم کرتی ہوں۔غرض مؤمن تو کسی جگہ رہے اُسے کام کرنا پڑے گا اور اگر کسی وقت کسی کے ذہن میں یہ آیا کہ اب آرام کا وقت ہے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اس نے اپنے ایمان کو کھو دیا کیونکہ جس بات کو اسلام نے ایمان اور آرام قرار دیا ہے وہ تو کام کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے۔فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَ إِلى رَبَّكَ فَارْغَبُ (الم نشرح 8 تا 9)۔جب تم فارغ ہو جاؤ تو اور زیادہ محنت کرو اور اپنے رب کی طرف دوڑ پڑو۔یہ نکتہ ہے جسے ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے تمہارے لئے ان معنوں میں کوئی آرام نہیں جسے دنیا کے لوگ آرام کہتے ہیں لیکن جن معنوں میں قرآن کریم آرام کا وعدہ کرتا ہے اسے تم آسانی سے حاصل کر سکتے ہو۔دنیا جن معنوں میں آرام کا مطلب لیتی ہے وہ یقیناً غلط ہیں اور ان معنوں سے جس شخص نے آرام کی تلاش کی وہ اس جہان میں بھی اندھا رہے گا اور آخرت میں بھی اندھا اُٹھے گا۔تم خدا تعالیٰ کی طرف دیکھو اُس نے آرام پیدا کیا مگر کیا وہ خود بھی آرام کیا کرتا ہے؟ اُس کے متعلق تو آتا ہے کہ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ (البقره:256) اُسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ۔خطبات محمود جلد 16 صفحہ 613،612) حضرت حکیم میر حسام الدین صاحب میر حامد شاہ صاحب کے جماعت میں خصوصیت رکھنے کے علاوہ ان کے والد