تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 862

تذکار مہدی — Page 212

تذکار مهدی ) 212 روایات سید نا محمود نے حافظ صاحب سے اتنی اجازت لے لی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چک سے جھانک کر زیارت کر لیں یا یہ کہ ان کی نظر بچا کر مجھے اس وقت یہ تفصیل یاد نہیں وہ اُس کمرہ کی طرف گئے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے اور چک اُٹھا کر جھانکا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٹہل رہے ہیں۔اُس وقت آپ کی دروازہ کی طرف پشت تھی اور بڑی تیزی سے دیوار کی دوسری طرف جا رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ جب آپ کتاب، اشتہار یا کوئی مضمون لکھتے تو بسا اوقات ٹہلتے ہوئے لکھتے جاتے اور آہستہ آواز سے اُسے ساتھ ساتھ پڑھتے بھی جاتے۔اُس وقت بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوئی مضمون لکھ رہے تھے بڑی تیزی سے ٹہلتے جا رہے تھے اور ساتھ ساتھ پڑھتے جاتے تھے۔دیوار کے قریب پہنچ کر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام واپس مڑنے لگے تو مولوی برہان الدین صاحب کہتے ہیں میں وہاں سے بھاگا تا آپ کہیں مجھے دیکھ نہ لیں۔حافظ حامد علی صاحب نے یا کسی اور نے پوچھا کیا ہوا؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کر لی ؟ وہ کہنے لگے۔بس پتہ لگ گیا اور پنجابی زبان میں کہنے لگے ”جہیڑا کمرے وچ اتنا تیز تیز چلدا ہے اُس نے کسی دُور جگہ ہی جانا ہے، یعنی جو کمرہ میں اس قدر تیز چل رہا ہے معلوم ہوتا ہے اُس کی منزلِ مقصود بہت دور ہے اور اُسی وقت آپ کے دل میں یہ بات جم گئی کہ آپ دنیا میں کوئی عظیم الشان کام کر کے رہیں گے۔یہ ایک نکتہ ہے مگر اُس کو نظر آ سکتا ہے جسے روحانی آنکھیں حاصل ہوں۔وہ اُس وقت بغیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کوئی بات کئے چلے گئے مگر چونکہ یہ بات دل میں جم چکی تھی اس لئے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق دی اور پھر اس قدر اخلاص بخشا کہ اُنہیں کسی کی مخالفت کی پرواہ ہی نہ رہی۔تو تیزی کے ساتھ کام کرنے سے اوقات میں بہت بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔پس بچوں کو جلدی کام کرنے اور جلدی سوچنے کی عادت ڈالی جائے۔مگر جلدی سے مراد جلد بازی نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر تیزی سے کام کرنا ہے۔جلد باز شیطان ہے لیکن سوچ سمجھ کر جلدی کا کام کرنے والا خدا تعالیٰ کا سپاہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے دیکھا ہے کہ آپ دن بھر گھر کے اندر کام کرتے لیکن روزانہ ایک دفعہ سیر کے لئے ضرور جاتے اور 74 - 75 برس کی عمر کے باوجود سیر پر اس قدر با قاعدگی رکھتے کہ آج وہ ہم سے نہیں ہو سکتی۔ہم بعض دفعہ سیر پر جانے سے رہ جاتے ہیں لیکن