تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 862

تذکار مہدی — Page 211

تذکار مهدی ) : 211 روایات سید نا محمودی بڑی عزت حاصل تھی۔جب احمدی ہوئے تو باوجود اس کے کہ اُن کے گزارہ میں تنگی آگئی پھر بھی انہوں نے پرواہ نہ کی اور اسی غربت میں دن گزار دیئے۔بہت ہی مستغنی المزاج انسان تھے انہیں دیکھ کر کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ یہ کوئی عالم ہیں بلکہ بظاہر انسان یہی سمجھتا تھا کہ یہ کوئی کمی ہیں بہت ہی منکسر طبیعت کے تھے۔مجھے اُن کا ایک لطیفہ ہمیشہ یاد رہتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب سیا لکوٹ تشریف لے گئے اور وہاں سخت مخالفت ہوئی تو اس کے بعد آپ جب واپس آئے تو مخالفوں کو جس جس شخص کے متعلق پتہ لگا کہ یہ احمدی ہے اُسے سخت تکلیفیں دینی شروع کر دیں۔مولوی برہان الدین صاحب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ٹرین پر سوار کرا کے سٹیشن سے واپس جا رہے تھے کہ لوگوں نے اُن پر گو بر اُٹھا اُٹھا کر پھینکنا شروع کر دیا اور ایک نے تو گوبر آپ کے منہ میں ڈال دیا مگر وہ بڑی خوشی سے اس تکلیف کو برداشت کرتے گئے اور جب بھی ان پر گوہر پھینکا جاتا تھا بڑے مزے سے کہتے تھے کہ ایہہ دن کتھوں۔ایہہ خوشیاں کتھوں اور بتانے والے نے بتایا کہ ذرا بھی اُن کی پیشانی پر بل نہ آیا۔غرض بہت ہی مخلص انسان تھے۔وہ اپنے احمدی ہونے کا موجب ایک عجیب واقعہ سنایا کرتے تھے احمدی گو وہ کچھ عرصہ بعد میں ہوئے ہیں۔مگر انہوں نے دعوئی سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شناخت کر لیا تھا۔درمیان میں کچھ وقفہ پڑ گیا۔انہوں نے ابتداء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر سنا تو پیدل قادیان آئے۔یہاں آ کر پتہ لگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گورداسپور تشریف لے گئے ہیں شاید کسی مقدمہ میں پیشی تھی یا کوئی اور وجہ تھی مجھے صحیح معلوم نہیں۔آپ فوراً گورداسپور پہنچے۔وہاں انہیں حضرت حافظ حامد علی مرحوم ملے۔یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک دیر سینہ خادم اور دعویٰ سے پہلے آپ کے ساتھ رہنے والے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ذیل گھر میں یا کہیں اور ٹھہرے ہوئے تھے اور جس کمرہ میں آپ مقیم تھے اُس کے دروازہ پر چک پڑی ہوئی تھی۔مولوی برہان الدین صاحب کے دریافت کرنے پر حافظ حامد علی صاحب نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے کمرہ میں کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔حافظ صاحب نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مصروفیت کی وجہ سے منع کیا ہوا ہے اور حکم دے رکھا ہے کہ آپ کو نہ بلایا جائے۔مولوی صاحب نے منتیں کیں کہ کسی طرح ملاقات کرا دو مگر حافظ صاحب نے کہا میں کس طرح عرض کر سکتا ہوں جبکہ آپ نے ملنے سے منع کیا ہوا ہے۔لیکن آخر بہت سی منتوں کے بعد انہوں