تذکار مہدی — Page 191
تذکار مهدی ) 191 روایات سید نا محمود حضرت صاحب کو اطلاع دی اور لکھا کہ یہ کیسی باتیں ہیں جو اس کتاب میں درج ہیں۔حضرت صاحب نے اس کو جواب نہ لکھا بلکہ اس کے جواب میں ایک کتاب لکھی۔جس کا نام چشمہ مسیحی ہے اور جس سے نبوت کے مسئلہ میں ہمیں بڑی مدد ملتی ہے۔یہ کتاب اس غیر احمدی کو عیسائیت سے بچانے کے لئے لکھی گئی۔پس حضرت مسیح موعود کا طریق عمل بتا رہا ہے کہ ہمارا ایسے موقع پر کیا طریق عمل ہونا چاہئے۔اصل بات یہ ہے کہ ہمارے جنگ کا دائرہ حضرت مسیح کو ماننے اور نہ ماننے کی حد تک ہی محدود نہیں ہو جاتا۔بلکہ اس سے وسیع ہے۔ہمارے سلسلہ کی بنیاد مسیح موعود سے ہی نہیں رکھی گئی بلکہ آج سے تیرہ سو سال قبل رکھی گئی تھی کیونکہ مسیح موعود کے مبعوث ہونے کی بنیاد اس وقت رکھی گئی تھی۔جب رسول کریم ﷺ نے دعوی کیا تھا۔پس غیر احمدیوں کا اپنے ساتھ برا سلوک اور برا معاملہ دیکھ کر اور ان کی عداوت اور دشمنی کو دیکھ کر یہ مت سمجھو۔کہ جب ان پر تباہی اور بر بادی آئے۔تو ہمیں چپ ہو کے بیٹھ رہنا چاہئے کیونکہ ان لوگوں کی یہ حالت ہی ہماری ترقی اور کامیابی کی بنیاد اور جڑھ ہے اور ایسی صورت میں ہی ہماری کامیابی کے سامان ہیں۔مباحثات کے نقصانات ( الفضل 23 / مارچ 1923 ء جلد 10 نمبر 37 صفحہ 5) میں ہمیشہ مباحثات سے بچتا ہوں اور میری تو یہ عادت ہے کہ اگر کوئی مباحثانہ رنگ میں سوال کرے تو ابتدا میں ایسا جواب دیتا ہوں کہ کئی لوگوں نے کہا ہے کہ اُنہوں نے کسی سوال پہلے پہل میرا جواب سُن کر یہ خیال کیا کہ شائد میں جواب نہیں دے سکتا اور دراصل ٹالنے کی کوشش کرتا ہوں مگر جب کوئی پیچھے ہی پڑ جائے تو میں جواب کی ضرورت محسوس کرتا ہوں اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا جواب دیتا ہوں کہ وہ بھی اپنی غلطی محسوس کر لیتا ہے۔یاد رکھو سچائی کے لئے کسی بحث کی ضرورت نہیں ہوتی۔میں نے ہمیشہ ایسی باتوں سے روکا ہے۔ڈبیٹنگ کہیں بھی میرے نزدیک آوارگی کی ایک شاخ ہے اور میں اس سے ہمیشہ روکتا رہتا ہوں۔لیکن یہ چیز بھی کچھ ایسی راسخ ہو چکی ہے۔کہ برابر جاری ہے۔حالانکہ اس سے دل پر سخت زنگ لگ جاتا ہے۔ایک شخص کسی چیز کو مانتا نہیں۔مگر اس کی تائید میں دلائل دیتا جاتا ہے تو اس سے دل پر