تذکار مہدی — Page 192
تذکار مهدی ) 192 نامحمودی روایات سیّد نا محمود زنگ لگنا لازمی امر ہے۔مجھے ایک واقعہ یاد ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ طریق ایمان کو خراب کرنے والا ہے۔مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سنایا که مولوی بشیر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت مؤید اور میں مخالف تھا۔مولوی بشیر صاحب ہمیشہ دوسروں کو براہین احمدیہ پڑھنے کی تلقین کرتے اور کہا کرتے تھے کہ یہ شخص مجدد ہے۔آخر میں نے ان سے کہا کہ آؤ مباحثہ کر لیتے ہیں۔مگر آپ تو چونکہ مؤید ہیں۔آپ مخالفانہ نقطہ نگاہ سے کتابیں پڑھیں اور میں مخالف ہوں اس لئے موافقانہ نقطہ نگاہ سے پڑھوں گا۔سات آٹھ دن کتابوں کے مطالعہ کے لئے مقرر ہو گئے اور دونوں نے کتابوں کا مطالعہ کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ میں جو مخالف تھا احمدی ہو گیا اور وہ جو قریب تھے بالکل دور چلے گئے۔ان کی سمجھ میں بات آگئی اور ان کے دل سے ایمان جاتا رہا۔تو علم النفس کی رو سے ڈبیٹس کرنا سخت مضر ہے اور بعض اوقات سخت نقصان کا موجب ہو جاتا ہے۔یہ ایسے باریک مسائل ہیں جن کو سمجھنے کی ہر مدرس اہلیت نہیں رکھتا۔ابھی تھوڑا عرصہ ہوا یہاں ایک ڈیبیٹ ہوئی اور جس کی شکایت مجھ تک بھی پہنچی تھی اِس میں اس امر پر بحث تھی کہ ہندوستان کے لئے مخلوط انتخاب چاہئے یا جدا گانہ؟ حالانکہ میں اس کے متعلق اپنی رائے ظاہر کر چکا ہوں اور یہ سو عواد بی ہے کہ اس بات کا علم ہونے کے باوجود کہ میں ایک امر کے متعلق اپنی رائے ظاہر کر چُکا ہوں پھر اس کو زیر بحث لایا جائے۔الفضل 11 / مارچ 1939 ء جلد 27 نمبر 58 صفحہ 8) یا بندی نماز کی عادت یہ دیکھ کر کہ آپ کے والد صاحب مصائب دنیوی میں بہت گھرے ہوئے ہیں ان کے کہنے پر یہ کام اپنے ذمہ لے لیا کہ ان کی طرف سے ان کے مقدمات کی پیروی کر دیا کریں۔ان مقدمات کے دوران آپ کی انابت الی اللہ اور بھی ظاہر ہوئی۔ایک دفعہ ایسا ہوا کہ آپ مقدمے کی پیروی کے لئے گئے اور مقدمے کے پیش ہونے میں دیر ہو گئی نماز کا وقت آ گیا آپ باوجود لوگوں کے منع کرنے کے نماز کے لئے چلے گئے۔اور جانے کے بعد ہی مقدمہ کے لئے بلائے گئے مگر آپ عبادت میں مشغول رہے اس سے فارغ ہوئے تو عدالت میں آئے حسب