تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 862

تذکار مہدی — Page 190

تذکار مهدی ) 190 روایات سید نامحمود دینے کا یہ مطلب ہے کہ جو لوگ آسانی اور سہولت سے ہمارے ہاتھ میں آ سکتے ہیں۔ان میں سے چار پانچ لاکھ کو ہم جانے دے رہے ہیں اور یہ اتنی ہی تعداد نہیں ہے۔اب تو آریہ بھی ان کی تعداد 33 - 33لاکھ مان رہے ہیں۔شردھانند نے اپنی ایک تقریر میں اتنی تعداد تسلیم کی ہے اور یہ آہستہ آہستہ ان لوگوں کی تعداد ظاہر کر رہے ہیں تا کہ مسلمان زیادہ نہ گھبرا جائیں اور واقف کار ان لوگوں کی تعداد ایک کروڑ بتاتے ہیں۔اتنی بڑی تعداد جو افغانستان کی ساری آبادی سے دوگنی ہے۔اس کو ضائع ہونے دینا قطعاً ہوشیاری اور دانائی کے خلاف ہے۔پھر حضرت مسیح موعود کا طریق ہم دیکھتے ہیں۔تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسے موقع پر آپ یہ نہ کہتے کہ یہ ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں۔انہیں تباہ ہونے دو۔وہ لوگ بیشک ہم سے دشمنی اور عداوت کریں۔ہمیں دکھ اور تکالیف دیں۔مگر یہ بھی تو یا د رکھو کہ اوروں کی نسبت یہی لوگ آسانی سے ہمارے قابو میں آ سکتے ہیں۔ہماری اصل غرض یہی ہے کہ جس کام کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں۔وہ ہو جائے اور یہ لوگ چونکہ اس کام کے ہونے میں سب سے زیادہ مد ہیں۔اس لئے ان کا بچانا ہمارا فرض ہے۔کتاب جنگ مقدس جس میں آٹھم کے ساتھ مباحثہ چھپا ہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مباحثہ اس وقت ہوا جبکہ آپ نے مسیح موعود ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور مولوی آپ کے کافر ہونے کا اعلان کر چکے تھے اور فتوے دے چکے تھے کہ آپ واجب القتل ہیں! ایسے موقعہ پر ایک غیر احمدی کا عیسائی سے مقابلہ ہوتا ہے اس نے حضرت صاحب سے درخواست کی تھی کہ آپ مقابلہ کریں۔اس پر حضور ( علیہ السلام) جھٹ کھڑے ہو گئے۔آپ نے اس وقت یہ نہ کہا عیسائی ہمارے ایسے دشمن نہیں ہیں جیسے غیر احمدی ہیں بلکہ آپ مباحثہ کیلئے چلے گئے اور قادیان سے باہر چلے گئے۔یہ تو اس وقت کا ذکر ہے۔جب مخالفت زوروں پر تھی اور دعوے کی ابتدا تھی۔لیکن اب اس وقت کا ذکر سناتا ہوں۔جب دعوے اپنے کمال کو پہنچ گیا تھا اور مخالفت کم ہوگئی تھی۔عیسائیوں کو 1906ء میں خاص جوش پیدا ہوا۔اور انہوں نے بڑے زور سے تبلیغ شروع کی۔بریلی میں کوئی شخص تھا۔عیسائیوں نے ینابیع الاسلام کتاب کے ذریعہ اسے خراب کرنا چاہا۔اس کے دل میں اس کتاب کو پڑھ کر اسلام کے متعلق شکوک پیدا ہو گئے۔اس نے