تذکار مہدی — Page 164
تذکار مهدی ) 164 روایات سید نا محمود کرامت دکھا ئیں تو سب مولوی مان لیں گے لدھیانہ میں ایک شخص میر عباس علی تھے۔وہ حضرت صاحب سے بہت خلوص رکھتے تھے حتی کہ ان کی موجودہ حالت کے متعلق حضرت صاحب کو الہام بھی ہو ا تھا۔لدھیانہ میں جب حضرت مسیح موعود اور محمد حسین کا مباحثہ ہوا تو میر عباس علی حضرت صاحب کا کوئی پیغام لے کر گئے۔ان کے مولوی محمد حسین وغیرہ مولویوں نے بڑے احترام اور عزت سے ہاتھ چومے کہا۔آپ آلِ رسول ہیں آپ کی تو ہم بھی بیعت کر لیں لیکن یہ مغل کہاں سے آ گیا ہے۔اگر کوئی مامور آتا تو سادات میں سے آنا چاہئے تھا۔پھر کچھ تصوف وصوفیاء کا ذکر شروع کر دیا۔میر صاحب کو صوفیاء سے بہت اعتقاد تھا۔مولویوں نے کچھ ادھر ادھر کے قصے بیان کر کے کہا کہ صوفیاء تو اس قسم کے عجوبے دکھایا کرتے تھے۔اگر مرزا صاحب بھی کچھ ہیں تو کوئی عجوبہ دکھلائیں۔ہم آج ہی ان کو مان لیں گے۔مثلاً وہ کوئی سانپ پکڑ کر دکھائیں۔یا اور کوئی اس قسم کی بات کریں۔میر عباس علی کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی اور جب حضرت صاحب کے پاس آئے تو کہا کہ حضور اگر کوئی کرامت دکھا ئیں تو سب مولوی مان لیں گے۔حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ جب کرامت کا لفظ ان کی زبان سے نکلا تو اسی وقت مجھے یقین ہو گیا کہ بس میر صاحب کو مولویوں نے پھندے میں پھنسا لیا۔اس پر حضرت صاحب نے ان کو بہت سمجھایا مگر ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔تو وسوسہ انداز لوگ ایک سوراخ تلاش کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈال دیتے ہیں جس سے اُسے ٹھوکر لگ جاتی ہے۔قادیان میں بھی ایسے لوگ ہیں جن کا یہ کام ہے کہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالیں۔بیعت بھی کی ہوئی ہے، اپنے آپ کو مخلص بھی قرار دیتے ہیں، مگر وسوسہ اندازی سے باز نہیں آتے۔ایسے لوگوں سے محفوظ رہنے کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ انسان نیچے دل سے اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھے گا۔جو پڑھے گا یقینا اللہ تعالیٰ اسے وسوسہ سے محفوظ رکھے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کے اخلاص کو ضائع نہیں کرتا اور شیطان غالب نہیں آسکتا۔شیطان کو اقتدار نہیں دیا گیا۔الفضل 5 نومبر 1918 ء جلد 6 نمبر 34 صفحہ 9)