تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 862

تذکار مہدی — Page 165

تذکار مهدی ) میر عباس علی لدھیانوی 165 روایات سید نا محمود انسانی علم بالکل محدود ہوتا ہے۔بعض اوقات وہ ایک چیز کے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ وہ اچھی ہے لیکن اس کا نتیجہ خراب ہوتا ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو میر عباس علی لدھیانوی کے متعلق ایک وقت علم دیا گیا کہ وہ نیک ہے تو آپ اُس کی تعریف فرمانے لگے۔مگر چونکہ اُس وقت آپ کو اُس کے انجام کا علم نہیں تھا اس لئے آپ کو پتہ نہ لگا کہ ایک دن وہ مرتد ہو جائے گا۔لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا علم دے دیا۔غرض انسانی علم بہت ہی محدود ہے صرف خدا تعالیٰ ہی کامل علم رکھتا ہے جو سب پر حاوی ہے اور کوئی شخص اس کے علوم کا احاطہ نہیں ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 583) کرسکتا۔تکبر کی بجائے احسانات کا شکر گزار ہونا چاہئے دعا ہے جو ہم ہمیشہ مانگتے رہتے ہیں اور جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ عام مومن تو کجا منعم علیہ شخص بھی مغضوب اور ضال ہونے کے خطرہ میں ہر وقت گھرا ہوا ہے اور بعض دفعه انسان روحانی لحاظ سے بہت بلند مقام پر پہنچ کر بھی ایسا گرتا ہے کہ اس کے اندر ایمان کا شائبہ تک نہیں رہ جاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لدھیانہ کے ایک شخص کے متعلق جو آپ سے نہایت گہری ارادت ظاہر کرتا تھا ایک دفعہ ایک الہام ہوا جس میں اس کی روحانی طاقتوں کی بہت بڑی تعریف کی گئی تھی۔مگر بعد میں وہ مرتد ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا کہ اس کے متعلق تو الہام الہی میں تعریف آچکی تھی پھر یہ کیوں مرتد ہو گیا۔تو آپ نے فرمایا بے شک الہام میں اس کی تعریف موجود تھی اور اللہ تعالی کا کلام بتارہا تھا کہ وہ اعلیٰ روحانی طاقتیں رکھتا تھا۔لیکن جب اس نے ان طاقتوں سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور اس میں کبر اور غرور پیدا ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہو گیا اور وہ مرتد ہو گیا۔تو سورہ فاتحہ کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ نفاق اور کفریہ دو چیزیں انسان کے ساتھ ہر وقت لگی ہوئی ہیں اور یہ دونوں مرضیں منعم علیہ گروہ میں شامل ہونے کے بعد انسان پر حملہ آور ہوتی رہتی ہیں۔اور ان کے پیدا ہونے کے دو سبب ہوتے ہیں۔ایک مرض تو اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب