تذکار مہدی — Page 163
تذکار مهدی ) 163 روایات سید نا محمودی تھی اور چونکہ مجھے بار بار قضائے حاجت کے لئے جانا پڑتا تھا اس لئے میں چاہتا تھا کہ پاخانہ کی اچھی طرح صفائی ہو جائے تا کہ طبیعت میں انقباض پیدا نہ ہو۔خاکرو بہ آئی تو میں نے اسے پوچھا کہ تم نے جگہ صاف کر دی ہے اس وقت شاید اس نے جھوٹ بولا یا کوئی کونہ صاف کرنا اسے بھول گیا تھا کہ اس نے جواب میں کہا میں نے جگہ صاف کر دی ہے۔اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کشفی حالت طاری ہوئی اور آپ نے دیکھا کہ ایک کونہ میں نجاست پڑی ہے۔اس پر آپ نے اسے کہا تم جھوٹ کیوں بولتی ہو فلاں کو نہ تو ابھی گندہ ہے اور تم نے اس کی صفائی نہیں کی۔وہ یہ سن کر حیران رہ گئی کہ انہیں اندر بیٹھے کس طرح علم ہو گیا ہے کہ میں نے پوری صفائی نہیں کی۔( تذکرہ صفحہ 465) یہ نظارہ بھی منفرد اور مشترک دونوں رنگ رکھتا ہے یعنی کبھی صرف ایک شخص کو نظارہ دیکھایا جاتا ہے اور کبھی ویسا ہی نظارہ دوسروں کو بھی دکھا دیا جاتا ہے۔( تفسیر کبیر جلد 9 صفحه 447) قادیان کی ترقی کی پیشگوئی ایک زمانہ تھا کہ یہاں احمدیوں کو مسجدوں میں نہیں جانے دیا جاتا تھا۔مسجد کا دروازہ بند کر دیا گیا۔چوک میں کیلے گاڑ دیئے گئے تا نماز پڑھنے کے لئے جانے والے گریں اور کنوئیں سے پانی نہیں بھرنے دیا جاتا تھا بلکہ یہاں تک سختی کی جاتی تھی کہ گھماروں کو ممانعت کر دی گئی تھی کہ احمدیوں کو برتن بھی نہ دیں۔ایک زمانہ میں یہ ساری مشکلات تھیں مگر اب وہ لوگ کہاں ہیں۔ان کی اولاد میں احمدی ہو گئی ہیں اور وہی لوگ جنہوں نے احمدیت کو مٹانے کی کوشش کی ان کی اولا دا سے پھیلانے میں مصروف ہے۔یہی مدرسہ جس جگہ واقع ہے یہاں پرانی روایات کے مطابق جن رہا کرتے تھے اور کوئی شخص دو پہر کے وقت بھی اس راستہ سے اکیلا نہ گزرسکتا تھا۔اب دیکھو۔وہ جن کس طرح بھاگے۔مجھے یاد ہے۔اس ہائی سکول والے) میدان سے جاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا ایک رؤیا سنایا تھا کہ قادیان بیاس تک پھیلا ہوا ہے اور شمال کی طرف بھی بہت دور تک اس کی آبادی چلی گئی ہے۔اس وقت یہاں صرف آٹھ دس گھر احمدیوں کے تھے اور وہ بھی بہت تنگدست۔باقی سب بطور مہمان آتے تھے لیکن اب دیکھو خدا تعالیٰ نے کس قدر ترقی اسے دی ہے۔الحکم سیرت مسیح موعود نمبر مورخہ 21 تا 28 مئی و 7 تا 14 جون 1943ء صفحہ 11 جلد 47 نمبر 19 تا22)