تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 862

تذکار مہدی — Page 162

162 تذکار مهدی ) روایات سیّد نا محمود شاید مولویت کی کوئی قدر ہو تو ہو ہمیں تو کوئی مولوی کہہ دے تو چڑ آ جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ مولوی کا لفظ بُرا ہے۔مولوی عربی کا ایک لفظ ہے اور یہ مولائی سے بنا ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ہمارا مولا ، ہمارا سردار اور ہمارا اُستاد مگر اب مولوی کے لفظ کا استعمال جن لوگوں پر شروع ہو گیا ہے اُن کو دیکھتے ہوئے اس بات سے شرم آتی ہے کہ کوئی ہمیں مولوی کہہ دے۔مخالفین کا بائیکاٹ اور ایذاء رسانی خطبات محمود جلد 18 صفحہ 390-389 ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا بائیکاٹ بھی ہم نے دیکھا۔وہ وقت بھی دیکھا جب چوڑھوں کو صفائی کرنے اور سقوں کو پانی بھرنے سے روکا جاتا۔پھر وہ وقت بھی دیکھا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہیں باہر تشریف لے جاتے تو آپ پر مخالفین کی طرف سے پتھر پھینکے جاتے اور وہ ہر رنگ میں جنسی اور استہزاء سے پیش آتے۔مگر ان تمام مخالفتوں کے باوجود کیا ہوا، آپ جتنے لوگ اس وقت یہاں بیٹھے ہیں، آپ میں سے پچانوے فیصدی وہ ہیں جو اس وقت مخالف تھے یا مخالفوں میں شامل تھے مگر اب وہی پچانوے فیصدی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے ساتھ شامل ہیں۔پھر حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد جماعت میں جوشور اٹھا اس کا کیا حشر ہوا۔اس فتنہ کے سرگروہ وہ لوگ تھے جوصدرانجمن پر حاوی تھے اور تحقیر کے طور پر کہا کرتے تھے کہ کیا ہم ایک بچہ کی غلامی کر لیں۔خدا تعالیٰ نے اسی بچے کا ان پر ایسا رعب ڈالا کہ وہ قادیان چھوڑ کے بھاگ گئے اور اب تک یہاں آنے کا نام نہیں لیتے۔انہیں لوگوں نے اس وقت بڑے غرور سے کہا تھا کہ جماعت کا اٹھانوے فیصدی حصہ ہمارے ساتھ ہے اور دو فیصدی ان کے ساتھ۔مگر اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو فیصدی بھی ان کے ساتھ نہیں رہا اور اٹھانوے فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ ہماری جماعت میں شامل ہو چکا ہے۔غرض ہر رنگ میں ہماری مخالفت کی گئی ، مقامی طور پر بھی اور بیرونی طور پر بھی ، مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمیشہ کامیاب رکھا ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں مخالفتوں کا کیا ڈر ہوسکتا ہے۔(خطبات محمود جلد 15 صفحہ 207) کشفی حالت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے۔مجھے ایک دفعہ پیچش کی شکایت