تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 862

تذکار مہدی — Page 161

تذکار مهدی ) 161 روایات سیّد نا محمود مرزا صاحب کے مقابلہ میں کیا طریق اختیار کرنا چاہئے۔مولوی عبد الرحمن صاحب نے کہا کہ مرزا صاحب اعلان کر چکے ہیں کہ میں اب مباحثہ نہیں کروں گا ہم اشتہار مباحثہ دیتے ہیں اگر وہ مقابلہ پر کھڑے ہو جائیں گے تو ہم کہیں گے کہ انہوں نے جھوٹ بولا کہ پہلے تو اشتہار دیا تھا کہ ہم مباحثہ کسی سے نہ کریں گے اور اب مباحثہ کے لئے تیار ہو گئے اور اگر مباحثہ پر آمادہ نہ ہوئے تو ہم شور مچادیں گے کہ دیکھو مرزا صاحب ہار گئے ہیں۔اس پر مولوی عمر الدین نے کہا کہ اس کی کیا ضرورت ہے میں جاتا ہوں اور جا کر ان کو قتل کر دیتا ہوں۔مولوی محمد حسین نے کہا کہ لڑکے تجھے کیا معلوم یہ سب کچھ کیا جا چکا ہے۔مولوی عمرالدین صاحب کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ جس کی خدا اتنی حفاظت کر رہا ہے وہ خدا ہی کی طرف سے ہو گا۔انہوں نے جب بیعت کر لی تو واپس جاتے ہوئے مولوی محمد حسین بٹالہ کے سٹیشن پر ملے اور کہا تو کدھر؟ انہوں نے کہا کہ قادیان بیعت کر کے آیا ہوں۔کہا تو بہت شریر ہے تیرے باپ کولکھوں گا۔انہوں نے کہا کہ مولوی صاحب یہ تو آپ ہی کے ذریعہ ہوا ہے جو کچھ ہوا ہے۔پس مخالف اس کو مارنا چاہتے ہیں وہ بچایا جاتا ہے۔خدا اس کی اپنے تازہ علم سے نصرت کرتا اور ہر میدان میں اس کو عزت دیتا ہے۔معیار صداقت۔انوار العلوم جلد 6 صفحہ 61-62) ظاہری علم پر بزرگی کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی اگر ظاہری علم پر ہی فضیلت اور بزرگی کی بنیاد رکھی جائے۔تو نَعُوذُ بِاللهِ دنیا کے سارے انبیاء کو جھوٹا کہنا پڑے گا کیونکہ ان کا مقابلہ کرنے والے علماء ہی ہوئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی ان ہی لوگوں نے مقابلہ کیا جو اپنے آپ کو ظاہری علوم کے لحاظ سے بہت بڑا عالم سمجھا کرتے تھے۔یہاں تک کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نہایت حقارت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو منشی غلام احمد لکھا کرتے تھے۔گویا آپ نَعُوذُ بِاللهِ صرف منشی ہیں کہ دو چار سطریں لکھ لیتے ہیں عالم نہیں اور وہ اس بات پر بہت خوش ہوتے کہ میں نے انہیں منشی لکھا ہے۔مجھے یاد ہے میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا کہ مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی نے کسی مجلس میں بیان کیا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے میری نسبت تو یہ لکھا ہے کہ یہ مولوی ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق اس نے یہ لکھا ہے کہ وہ منشی ہیں۔مجھے اس وقت بھی ان کی یہ بات بری معلوم ہوئی تھی اور آج بھی بری محسوس ہوتی ہے۔ان کے دل میں