تذکار مہدی — Page 160
تذکار مهدی ) 160 روایات سیّد نا محمود ہیں تو آپ نے یہاں کے ہندوؤں ، سکھوں اور مسلمانوں کو بار بار اعلان فرمایا کہ کیا تم میری پہلی زندگی پر کوئی اعتراض کر سکتے ہو مگر کسی کو جرات نہ ہوئی بلکہ آپ کی پاکیزگی کا اقرار کرنا پڑا۔مولوی محمد حسین بٹالوی جو بعد میں سخت ترین مخالف ہو گیا اس نے اپنے رسالہ میں آپ کی زندگی کی پاکیزگی اور بے عیب ہونے کی گواہی دی اور مسٹر ظفر علی خان کے والد نے اپنے اخبار میں آپ کی ابتدائی زندگی کے متعلق گواہی دی کہ بہت پاکباز تھے۔پس جو شخص چالیس سال تک بے عیب رہا اور اس کی زندگی پاکباز رہی وہ کس طرح راتوں رات کچھ کا کچھ ہو گیا اور بگڑ گیا۔علماء نفس نے مانا ہے کہ ہر عیب اور اخلاقی نقص آہستہ آہستہ پیدا ہوا کرتا ہے ایک دم کوئی تغیر اخلاقی نہیں ہوتا ہے۔پس دیکھو کہ آپ کا ماضی کیسا بے عیب اور بے نقص اور روشن ہے۔حضرت مسیح موعود کا حال معیار صداقت انوار العلوم جلد 6 صفحہ 60-61) جو خدا کا رسول ہو اس کے ساتھ خدا کی نصرت ہوتی ہے اگر نصرت نہیں تو وہ خدا کا مرسل اور رسول نہیں لوگ قریب ہوتا ہے کہ اس کو ہلاک کر دیں مگر خدا کی نصرت آتی ہے اور اُس کو کامیاب کرتی ہے اور اُس کے دشمنوں کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیتی ہے۔یہی معاملہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلہ میں ہوا۔آپ کو طرح طرح سے مارنے کی کوشش کی گئی۔لوگ مارنے پر متعین ہوئے جن کا علم ہو گیا اور وہ اپنے ارادے میں ناکام ہوئے ، مقد مے آپ پر جھوٹے اقدام قتل کے بنائے گئے۔چنانچہ ڈاکٹر مارٹن کلارک نے جھوٹا مقدمہ اقدام قتل کا بنایا اور ایک شخص نے کہہ بھی دیا کہ مجھے حضرت مرزا صاحب نے متعین کیا تھا۔مجسٹریٹ وہ جو اس دعویٰ کے ساتھ آیا تھا کہ اس مدعی مہدویت و مسیحیت کو اب تک کسی نے پکڑا کیوں نہیں میں پکڑوں گا مگر جب مقدمہ ہوتا ہے وہی مجسٹریٹ کہتا ہے کہ میرے نزدیک یہ جھوٹا مقدمہ ہے۔بار بار اس نے یہی کہا اور آخر اس شخص کو عیسائیوں سے علیحدہ کر کے پولیس افسر کے ماتحت رکھا گیا اور وہ شخص رو پڑا اور اس نے بتا دیا کہ مجھے عیسائیوں نے سکھایا تھا اور خدا نے اس جھوٹے الزام کا قلع قمع کر دیا۔اسی طرح ہماری جماعت کے پُر جوش مبلغ مولوی عمرالدین صاحب شملوی اپنا واقعہ سنایا کرتے ہیں کہ وہ بھی اسی معیار پر پرکھ کر احمدی ہوئے ہیں۔وہ سناتے ہیں کہ شملہ میں مولوی محمد حسین اور مولوی عبد الرحمن سیاح اور چند اور آدمی مشورہ کر رہے تھے کہ اب