تذکار مہدی — Page 144
تذکار مهدی ) 144 روایات سید نا محمود کمزوری کا زمانہ جب حضرت مسیح موعود نے دعویٰ کیا۔اس وقت آپ کی حالت اور آپ کے ماننے والوں کی حالت بظاہر بہت کمزور تھی۔میری پیدائش دعوی سے پہلے کی ہے اور گو میں نے ابتداء نہیں دیکھی مگر ابتداء کے قرب کا زمانہ دیکھا ہے۔وہ زمانہ بھی کمزوری کا زمانہ تھا۔طرح طرح سے مولوی لوگوں کو جوش دلاتے تھے اور ہر ممکن طریق سے دکھ اور تکالیف پہنچاتے تھے۔الفضل 30 نومبر 1923 ء جلد 11 نمبر 43 صفحہ 6 مخالفت اور جماعت کی ترقی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے میں نے کئی دفعہ سنا ہے کہ لوگ گالیاں دیتے ہیں تب برا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیوں اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں اور اگر گالیاں نہ دیں تب بھی ہمیں تکلیف ہوتی ہے کیونکہ مخالفت کے بغیر جماعت کی ترقی نہیں ہوتی۔پس ہمیں تو گالیوں میں بھی مزا آتا ہے اس لئے اعتراضات یا لوگوں کی بدزبانی کی پرواہ نہیں کرنی چاہیئے۔پنجابی میں ضرب المثل ہے کہ اونٹ آڑاندے ہی لدے جاندے ہیں، یعنی اونٹ گو چیختا رہتا ہے مگر مالک اس پر ہاتھ پھیر کر اسباب لا دہی دیتا ہے۔(خطبات محمود جلد 15 صفحہ 265 ) ہر ابتلاء کے بعد غیر معمولی ترقی جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوئی فرمایا تو آپ کو ماننے والے صرف چند آدمی تھے۔مگر اس کے بعد آتھم کے ساتھ آپ کا مقابلہ ہوا تو لوگوں پر ایک ابتلاء آیا اور انہوں نے سمجھا کہ آپ کی پیشگوئی اپنے ظاہری الفاظ کے لحاظ سے پوری نہیں ہوئی۔پھر لیکھرام سے آپ کا مقابلہ ہوا تو گو آپ کی پیشگوئی نہایت شان سے پوری ہوئی۔مگر ہندوؤں میں آپ کے خلاف جوش پیدا ہو گیا اور انہوں نے آپ کی سخت مخالفت شروع کر دی۔اسی طرح مولوی محمد حسین بٹالوی کے فتوؤں کا وقت آیا۔تو جماعت پر ایک ابتلاء آیا پھر ڈاکٹر عبدالحکیم کے ارتداد کا وقت آیا تو جماعت پر ابتلاء آیا۔غرض مختلف اوقات میں ایسے زور سے شورشیں اٹھیں کہ دیکھنے والوں نے سمجھا کہ اب یہ لوگ ختم ہو گئے لیکن خدا تعالیٰ نے ان سب فتنوں کو مٹانے کے سامان