تذکار مہدی — Page 145
تذکار مهدی ) کارمهدی 145 روایات سید نا محمود پیدا کر دئے اور وہ فتنے بجائے جماعت کو تباہ کرنے کے اس کی ترقی اور عزت کا موجب بن گئے۔اسی طرح اب ہو رہا ہے۔تم دیکھ لو کہ کس کس رنگ میں جماعت کے خلاف شورشیں اٹھیں۔فساد ہوئے اور کس طرح لوگوں نے سمجھ لیا کہ اب احمدیت مٹ جائے گی۔مگر ہر بار بجائے مٹنے کے جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے پہلے سے بھی زیادہ ترقی کر گئی۔الفضل 14 / مارچ 1962 ء جلد 51/16 نمبر 59 صفحہ 2) مخالفت مومنوں کے لئے ترقی کا ذریعہ ہماری ذاتی مشکلات میں سے سب سے پہلے احرار کی مخالفت ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ جہاں تک ان کی مخالفت کا سوال ہے اس کے دو پہلو ہیں۔ایک پہلو تو اس کا یہ ہے کہ لوگوں کے اندر مخالفت ہوتی ہے اور وہ مخالفت کی وجہ سے ہماری باتوں کے سننے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔اُن کے دلوں میں غصہ پیدا ہوتا ہے یہ چیز تو ہمارے لئے بُری ہوتی ہے۔مگر ایک صورت یہ بھی ہو ا کرتی ہے کہ جب کوئی شخص مخالفت کی باتیں سنتا ہے تو وہ پھر کریدتا ہے کہ اچھا! یہ ایسے گندے لوگ ہیں۔ذرا میں بھی تو جا کے دیکھوں اور جب وہ دیکھتا ہے تو حیران ہو جاتا ہے کہ جو باتیں مجھے اُنہوں نے بتائی تھیں وہ تو بالکل اور تھیں اور یہ باتیں جو کہتے ہیں بالکل اور ہیں اور وہ ہدایت کو تسلیم کر لیتا ہے۔مجھے خوب یاد ہے میں چھوٹا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں تشریف رکھتے تھے مجلس لگی ہوئی تھی کہ ایک صاحب رام پور سے تشریف لائے۔وہ رہنے والے تو لکھنؤ یا اُس کے پاس کے کسی مقام کے تھے، چھوٹا سا قد تھا، دُبلے پتلے آدمی تھے۔ادیب تھے،شاعر تھے اور اُن کو محاورات اُردو کی لغت لکھنے پر نواب صاحب رام پور نے مقرر کیا ہو اتھا، وہ آ کے مجلس میں بیٹھے اور اُنہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ میں رام پور سے آیا ہوں اور نواب صاحب کا درباری ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پوچھا کہ آپ کو یہاں آنے کی تحریک کس طرح ہوئی ؟ اُنہوں نے کہا میں بیعت میں شامل ہونے کے لئے آیا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمانے لگے۔اس طرف تو ہماری جماعت کا آدمی بہت کم پایا جاتا ہے، تبلیغ بھی بہت کم ہے، آپ کو اس طرف آنے کی تحریک کس نے کی؟ تو یہ لفظ میرے کانوں میں آج تک گونج رہے ہیں اور میں آج تک اس کو بھول نہیں سکا حالانکہ میری عمر اُس وقت سولہ سال کی تھی کہ اس کے