تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 862

تذکار مہدی — Page 143

تذکار مهدی ) 143 روایات سید نا محمود بیعتیں آنی شروع ہوگئی ہیں۔ابھی تین چار دن ہوئے ہیں۔فلپائن سے ایک شخص کا خط آیا ہے۔جس میں اس نے لکھا ہے کہ اسے میری بیعت کا خط ہی سمجھیں اور مجھے مزید لٹریچر بھجوائیں۔مجھے جس مقام کے متعلق بھی علم ہوتا ہے کہ وہاں کوئی اسلام کی خدمت کرنے والا ہے۔میں وہاں خط لکھ دیتا ہوں۔چنانچہ اس نے لکھا ہے کہ میں نے انجمن اشاعت اسلام لا ہور کو بھی ایک خط لکھا ہے۔میں نے مسجد لنڈن کے پتہ پر بھی ایک خط لکھا ہے۔میں نے واشنگٹن امریکہ کے پتہ پر بھی ایک خط لکھا ہے اب دیکھ لو فلپائن میں ہمارا کوئی مبلغ نہیں گیا۔لیکن لوگوں میں آپ ہی آپ احمدیت کی طرف رغبت پیدا ہو رہی ہے۔یہ وہی گیند ہے۔جسے قادیان میں بیٹھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہٹ ماری تھی۔الفضل 8 فروری 1956ء جلد 45/10 نمبر 33 صفحہ 4) ڈپٹی نذیر صاحب اور ترجمۃ القرآن جابہ کے قیام کی بڑی وجہ یہ تھی کہ قرآن شریف کا ترجمہ کرنے کی مجھے توفیق مل جائے۔سو اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج ہم اٹھائیسویں پارے کے آخر میں ہیں۔(چنانچہ 25 راگست کی شام تک خدا تعالیٰ کے فضل سے قرآن شریف کا سارا ترجمہ ختم ہو گیا ہے۔) اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض نوٹوں اور بعض حوالوں کے لئے ابھی اور بھی کچھ وقت لگے گا گر تین چار مہینے کے اندر اندر سارے قرآن شریف کا ترجمہ ہونا الہی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتا۔مجھے یاد ہے جب 1905ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دہلی گئے تو خواجہ کمال الدین صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب ڈپٹی نذیر احمد صاحب مترجم قرآن کو بھی ملنے گئے۔انہوں نے آکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سنایا کہ ڈپٹی صاحب نے اپنے ارد گرد کاغذوں کا ایک بڑا ڈھیر لگا رکھا تھا۔ایک مولوی بھی انہوں نے ملازم رکھا ہوا تھا اور خود بھی انہیں عربی زبان سے کچھ واقفیت تھی۔پھر وہ کہنے لگے میں نے بڑی کتابیں لکھی ہیں۔مگر ساری کتابیں ملا کر بھی مجھے اتنی مشکل پیش نہیں آئی۔جتنی مشکل مجھے قرآن کریم کے ترجمہ میں پیش آئی ہے۔چنانچہ دیکھئے میں نے ردی کاغذوں کا ڈھیر لگا رکھا ہے۔لکھتا ہوں اور پھاڑتا ہوں۔لکھتا ہوں اور پھاڑتا ہوں۔چنانچہ سات سال انہیں اس ترجمہ کے مکمل کرنے میں لگے۔مگر میں نے یہ ترجمہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت تھوڑے عرصہ میں کر لیا۔( الفضل 31 / اگست 1956ء جلد 45/10 نمبر 204 صفحہ 2)