تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 862

تذکار مہدی — Page 142

تذکار مهدی ) 142 روایات سید نا محمودی محسوس کرتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں جب دن رات چھپتیں تو باوجود اس کے کہ آپ کئی کئی راتیں بالکل نہیں سوتے تھے لیکن جب کوئی شخص رات کو پروف لاتا تو اس کے آواز دینے پر خود اٹھ کر لینے کے لئے جاتے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے کہ جَزَاكَ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ اس کو کتنی تکلیف ہوئی ہے۔یہ لوگ کتنی تکلیف برداشت کرتے ہیں خدا ان کو جزائے خیر دے حالانکہ آپ خود ساری رات جاگتے رہتے تھے۔میں کئی بار آپ کو کام کرتے دیکھ کر سویا اور جب کہیں آنکھ کھلی تو کام ہی کرتے دیکھا حتی کہ صبح ہو گئی۔دوسرے لوگ اگر چہ خدا کے لئے کام کرتے تھے لیکن آپ انکی تکلیف کو بہت محسوس کرتے تھے۔کیوں؟ اس لئے کہ انبیاء کے دل میں احسان کا بہت احساس ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے تمام احسانات کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کے سوا ان کے منہ سے کو کچھ نکلتا ہی نہیں پس تم لوگ بھی خدا تعالیٰ کے انعامات دیکھ کر الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ ہی کہا کرو۔(الفضل 19 اگست 1916ء جلد 4 نمبر 13 صفحہ 7) کرکٹ میں کھیلوں کا مخالف نہیں ہوں بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ نو جوانوں کو کھیلوں میں حصہ لینا چاہئیے تا اُن کی صحت اچھی رہے لیکن محض کھیلوں میں ساری زندگی گزار دینا درست نہیں۔ہم بھی بچپن میں مختلف کھیلیں کھیلا کرتے تھے۔میں عموماً فٹ بال کھیلا کرتا تھا۔جب قادیان میں بعض ایسے لوگ آگئے جو کرکٹ کے کھلاڑی تھے۔تو انہوں نے ایک کرکٹ ٹیم تیار کی ایک دن وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ جاؤ حضرت صاحب سے عرض کرو کہ وہ بھی کھیلنے کے لئے تشریف لائیں۔چنانچہ میں اندر گیا آپ اس وقت ایک کتاب لکھ رہے تھے۔جب میں نے اپنا مقصد بیان کیا۔تو آپ نے قلم نیچے رکھ دی اور فرمایا۔تمہارا گیند تو گراؤنڈ سے باہر نہیں جائے گا۔لیکن میں وہ کرکٹ کھیل رہا ہوں جس کا گیند دنیا کے کناروں تک جائے گا۔اب دیکھ لو کیا آپ کا گیند دنیا کے کناروں تک پہنچا ہے یا نہیں۔اس وقت امریکہ، ہالینڈ، انگلینڈ، سوئٹزر لینڈ، مڈل ایسٹ، افریقہ انڈونیشیا اور دوسرے کئی ممالک میں آپ کے ماننے والے موجود ہیں۔فلپائن کی حکومت ہمیں مبلغ بھیجنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔لیکن پچھلے دنوں سے وہاں سے برابر