تذکار مہدی — Page 128
تذکار مهدی ) 128 روایات سید نا محمود دی تھی۔طب کا سبق میں نے اور میر محمد الحق صاحب نے ایک دن ہی شروع کیا تھا بلکہ میر صاحب کا ایک لطیفہ ہے جو ہمارے گھر میں خوب مشہور ہوا کہ دوسرے ہی دن میر محمد اسحاق صاحب اپنی والدہ سے کہنے لگے اماں جان! مجھے صبح جلدی جگا دیں کیونکہ مولوی صاحب دیر سے مطب میں آتے ہیں۔میں پہلے مطب میں چلا جاؤں گا تاکہ مریضوں کو نسخے لکھ لکھ کر دوں حالانکہ ابھی ایک ہی دن اُن کو طب شروع کیئے ہوا تھا۔غرض میں نے آپ سے طب بھی پڑھی اور قرآن کریم کی تفسیر بھی۔قرآن کریم کی تغییر آپ نے دو مہینے میں ختم کر دی۔آپ مجھے اپنے پاس بٹھا لیتے اور کبھی نصف اور کبھی پورا پارہ ترجمہ سے پڑھ کر سنا دیتے۔کسی کسی آیت کی تفسیر بھی کر دیتے۔اسی طرح بخاری آپ نے دو تین مہینہ میں مجھے ختم کرا دی۔ایک دفعہ رمضان کے مہینہ میں آپ نے سارے قرآن کا درس دیا تو اس میں بھی میں شریک ہو گیا۔چند عربی کے رسالے بھی مجھے آپ سے پڑھنے کا اتفاق ہوا۔غرض یہ میری علمیت تھی۔الموعود، انوار العلوم جلد 17 صفحہ 569 تا 570) بڑوں میں سمجھ فہم اور فراست ہوتی ہے ہم جب بچے تھے تو حضرت خلیفہ مسیح الاول حضرت نانا جان سے فرمایا کرتے تھے کہ اپنے چھوٹے بیٹے محمد اسحاق کو دین کے لیے وقف کر دو۔وہ جواب دیا کرتے تھے کہ پھر وہ کھائے گا کہاں سے؟ اس پر حضرت خلیفہ اسیح الاول فرماتے آپ نے اپنے ایک لڑکے کو ڈاکٹر بنایا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا رزق بھی اسے دے دے گا۔میری صحت خراب تھی اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تم مولوی صاحب سے کچھ طب پڑھ لو کیونکہ یہ ہمارا خاندانی پیشہ ہے۔اسی طرح قرآن اور بخاری پڑھ لو۔جب میں نے حضرت خلیفہ اول سے طب اور دینیات پڑھنی شروع کی تو نانا جان مرحوم نے میر محمد اسحاق صاحب کو بھی میرے ساتھ بٹھا دیا۔میری عمر تیرہ چودہ سال کی تھی اور میر صاحب کی عمر مجھ سے دو سال کم تھی۔پہلے دن جب وہ پڑھ کر آئے تو نانی اماں نے لطیفہ سنایا کہ جب اسحاق سونے لگا تو اُس نے کہا مجھے صبح جلدی جگا دیں کیونکہ حضرت خلیفہ اول کے پاس کثرت کے ساتھ مریض آتے ہیں اور انہیں انتظار میں گھنٹوں بیٹھنا پڑتا ہے میں صبح صبح جا کر مریضوں کے لیے نسخے لکھوں گا تا کہ انہیں تکلیف نہ ہو۔اس پر وہ بھی ہنسے اور ہم بھی۔ہم میر صاحب سے