تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 862

تذکار مہدی — Page 129

تذکار مهدی ) 129 روایات سید نا محمودی مذاق بھی کیا کرتے تھے لیکن وہ تو بچوں کی باتیں تھیں بڑوں کو یہ باتیں نہیں سجتیں۔بڑوں میں سمجھ، فہم اور فراست ہوتی ہے۔وہ اگر ایسا کریں کہ ادھر لڑکا سکول میں داخل کیا اور اُدھر اس کی تنخواہ کا مطالبہ شروع کر دیا تو وہ پاگل سمجھے جائیں گے۔حالانکہ کام سکھانے والا تو اُس پر احسان کر رہا ہے۔جب وہ اچھی طرح فن سیکھ لے گا تو اپنا کام الگ شروع کر لے گا۔یورپ کی کتابیں پڑھ لو۔ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کوئی پیشہ ایسا نہیں جس میں شاگرد کچھ لے۔وہ کچھ لیتا نہیں بلکہ استاد کو کچھ رقم دیتا ہے۔استاد کام بھی سکھائے گا اور اس کے بدلہ میں کچھ لے گا بھی۔لیکن یہاں ایسا نہیں۔یہاں اگر کوئی کام سیکھنے کے لیے جاتا ہے تو پندرہ دن کے بعد یہ شکایت کرنے لگ جاتا ہے کہ وہ مجھے تنخواہ نہیں دیتا۔الفضل 14 ستمبر 1954 ء جلد 43/8 نمبر 150 صفحہ 6-5) پہلی تقریر، معارف قرآن بیان کرنا ، درس دینا ہمارے ایک استاد تھے میں نے ان کو دیکھا ہے کہ جب میں درس دیتا تو وہ با قاعدہ میرے درس میں شامل ہوتے۔لیکن اس کے مقابلہ میں میرے ایک اور استاد تھے جب کبھی وہ درس دے رہے ہوتے تو پہلے صاحب مسجد میں آ کر انہیں درس دیتے ہوئے دیکھتے تو چلے جاتے اور کہتے تھے کہ اس کی باتیں کیا سننی ہیں۔یہ تو سنی ہوئی ہیں۔مگر میرے درس میں باوجود اسکے کہ میں ان کا شاگرد تھا بوجہ اس کے کہ مجھ پر حسن ظنی رکھتے تھے ضرور شامل ہوتے اور فرمایا کرتے تھے کہ میں اس کے درس میں اس لئے شامل ہوتا ہوں کہ اس کے ذریعہ قرآن کریم کے بعض نئے مطالب مجھے معلوم ہوتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے کہ بعض لوگوں پر چھوٹی عمر میں ہی ایسے علوم کھول دیئے جاتے ہیں جو دوسروں کے وہم اور گمان میں بھی نہیں ہوتے۔اسی مسجد میں 1907ء میں سب سے پہلی دفعہ میں نے پبلک تقریر کی جلسہ کا موقعہ تھا بہت سے لوگ جمع تھے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے میں نے سورہ لقمان کا دوسرا رکوع پڑھا اور پھر اس کی تفسیر بیان کی۔میری اپنی حالت اس وقت یہ تھی کہ جب میں کھڑا ہوا تو چونکہ اس سے پہلے میں نے پبلک میں کبھی لیکچر نہیں دیا تھا اور میری عمر بھی اس وقت صرف 18 سال کی تھی پھر اس وقت حضرت خلیفہ اول بھی موجود تھے انجمن کے ممبران بھی تھے اور بہت سے اور دوست بھی آئے ہوئے تھے اس لئے میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔اس وقت