تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 862

تذکار مہدی — Page 90

تذکار مهدی ) 90 روایات سید نامحمودی سے پر کیا جاؤں گا۔چنانچہ باوجود اس کے کہ دنیوی علوم میں سے کوئی علم میں نے نہیں پڑھا اللہ تعالیٰ نے ایسی عظیم الشان علمی کتابیں میرے قلم سے لکھوائیں کہ دنیا ان کو پڑھ کر حیران ہے اور وہ یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ اس سے بڑھ کر اسلامی مسائل کے متعلق اور کچھ نہیں لکھا جا سکتا۔ابھی تفسیر کبیر کے نام سے میں نے قرآن کریم کی تفسیر کا ایک حصہ لکھا ہے اسے پڑھ کر بڑے بڑے مخالفوں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ اس جیسی آج تک کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی۔پھر ہمیشہ میں لاہور میں آتا رہتا ہوں اور یہاں کے رہنے والے جانتے ہیں کہ مجھ سے کالجوں کے پروفیسر ملنے آتے ہیں، سٹوڈنٹس ملنے آتے ہیں، ڈاکٹر ملنے آتے ہیں، مشہور پلیڈر اور وکیل ملنے آتے ہیں مگر آج تک ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی بڑے سے بڑے مشہور عالم نے میرے سامنے اسلام اور قرآن پر کوئی اعتراض کیا ہواور میں نے اسلام اور قرآن کی تعلیم کی روشنی میں ہی اُسے ساکت اور لاجواب نہ کر دیا ہو اور اسے یہ تسلیم نہ کرنا پڑا ہو کہ واقعہ میں اسلام کی تعلیم پر کوئی حقیقی اعتراض نہیں ہوسکتا۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو میرے شامل حال ہے ورنہ میں نے دُنیوی علوم کے لحاظ سے کوئی علم نہیں سیکھا لیکن میں اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ خدا نے مجھے اپنے پاس سے علم دیا اور خود مجھے ہر قسم کے ظاہری اور باطنی علوم سے حصہ عطا فرمایا۔میں ابھی بچہ ہی تھا کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک گھنٹی بجی ہے اور اُس میں سے ٹن کی آواز پیدا ہوئی ہے جو بڑھتے بڑھتے ایک تصویر کے فریم کی صورت اختیار کر گئی۔پھر میں نے دیکھا کہ اُس فریم میں ایک تصویر نمودار ہوئی۔تھوڑی دیر کے بعد وہ تصویر لنی شروع ہوئی اور پھر یکدم اُس میں سے کود کر ایک وجود میرے سامنے آ گیا اور اُس نے کہا میں خدا کا فرشتہ ہوں اور تمہیں قرآن کریم کی تفسیر سکھانے کے لئے آیا ہوں۔میں نے کہا سکھاؤ۔تب اُس نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھانی شروع کر دی وہ سکھاتا گیا، سکھاتا گیا اور سکھاتا گیا یہاں تک کہ جب وہ إيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تک پہنچا تو کہنے لگا آج تک جتنے مفسر گزرے ہیں اُن سب نے صرف اس آیت تک تفسیر لکھی ہے لیکن میں تمہیں اس کے آگے بھی تفسیر سکھاتا ہوں۔چنانچہ اس نے ساری سورۃ فاتحہ کی تفسیر مجھے سکھا دی۔اس رؤیا کے معنی در حقیقت یہی تھے کہ فہم قرآن کا ملکہ میرے اندر رکھ دیا گیا ہے۔