تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 862

تذکار مہدی — Page 91

تذکار مهدی ) 91 روایات سیّد نا محمود چنانچہ یہ ملک میرے اندر اس قدر ہے کہ میں یہ دعویٰ کرتا ہوں اور جس مجلس میں چا ہوئیں یہ دعویٰ کرنے کے لئے تیار ہوں کہ سورۃ فاتحہ سے ہی میں تمام اسلامی علوم بیان کرسکتا ہوں۔میں ابھی چھوٹا ہی تھا سکول میں پڑھا کرتا تھا کہ ہمارے سکول کی فٹ بال ٹیم امرتسر کے خالصہ کالج کی ٹیم سے کھیلنے کے لیئے گئی۔مقابلہ ہوا اور ہماری ٹیم جیت گئی۔اس پر باوجود اُس مخالفت کے جو مسلمان ہماری جماعت کے ساتھ رکھتے ہیں چونکہ ایک رنگ میں مسلمانوں کی عزت افزائی ہوئی تھی اس لیئے امرتسر کے ایک رئیس نے ہماری ٹیم کو چائے کی دعوت دی۔جب ہم وہاں گئے تو مجھے تقریر کرنے کے لئے کھڑا کر دیا گیا۔میں نے اس تقریر کے لئے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔جب مجھے کھڑا کیا گیا تو معاً مجھے یہ رویا یاد آ گیا اور میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ اے خدا! تیرا فرشتہ مجھے خواب میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھا گیا تھا۔آج میں اس بات کا امتحان لینا چاہتا ہوں کہ یہ خواب تیری طرف سے تھا یا میرے نفس کا دھوکا تھا۔اگر یہ خواب تیری طرف سے تھا تو تو مجھے سورہ فاتحہ کا ہی آج کوئی ایسا نکتہ بتا جو اس سے پہلے دنیا کے کسی مفسر نے بیان نہ کیا ہو۔چنانچہ اس دعا کے معاً بعد خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ایک نکتہ ڈالا۔میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 213 تا216) فرشتہ کا تفسیر قرآن سکھانا میں بچہ تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ابھی زندہ تھے کہ میں نے ایک رؤیا دیکھا جو میں نے بار ہا سنایا ہے مگر وہ رویا ایسا ہے کہ اگر میں اُسے لاکھوں دفعہ سناؤں تب بھی کم ہے اور اگر تم اسے لاکھوں دفعہ سنوتب بھی کم ہے، پھر اگر تم لاکھوں دفعہ سُن کر اس پر لاکھوں دفعہ غور کرو تب بھی اس کی اہمیت کے لحاظ سے یہ کم ہوگا۔میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ کھڑا ہوں مشرق کی طرف میرا منہ ہے کہ یک دم مجھے آسمان سے ایسی آواز آئی جیسے پیتل کا کوئی کٹورا ہو اور اُسے انگلی سے ٹھکور دیں تو اُس میں سے ٹن کی آواز پیدا ہوتی ہے۔مجھے بھی ایسا محسوس ہوا کہ کسی نے کٹورے کو انگلی ماری ہے اور اس میں سے ٹن کی آواز پیدا ہوئی ہے۔پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ آواز پھیلنی اور بلند ہونی شروع ہوئی جیسا کہ آوازیں ہمیشہ جو میں پھیلا کرتی ہیں۔پہلے تو وہ آواز مجھے سمٹی ہوئی معلوم ہوئی مگر پھر دُور دُور تک پھیلنی شروع ہوگئی جب وہ آواز تمام جو