تذکار مہدی — Page 89
تذکار مهدی ) 89 روایات سید نا محمود تھا کہ نہیں کوئی ناراض نہیں ہوگا۔تو بعض مسائل کا اثر دماغ پر بہت گہرا ہوتا ہے اور جب تک دماغ کی اصلاح اس کے مطابق نہ کی جائے یا پھر جب تک اس اصل کی غلطی اس پر پوری طرح واضح نہ کر دی جائے منفر داعمال میں انسان کی اصلاح ناممکن ہوتی ہے۔علوم ظاہری اور باطنی سے پر کیا جائے گا (خطبات محمود جلد 18 صفحہ 216) 1889ء میں جب میری پیدائش اللہ تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے ماتحت ہوئی تو وہ لوگ زندہ موجود تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ نشان مانگا تھا پھر جوں جوں میں بڑھا اللہ تعالیٰ کے نشانات زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوتے چلے گئے۔بچپن میں میری صحت نہایت کمزور تھی پہلے کالی کھانسی ہوئی اور پھر میری صحت ایسی گر گئی کہ گیارہ بارہ سال کی عمر تک میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہا اور عام طور پر یہی سمجھا جاتا رہا کہ میری زیادہ لمبی عمر نہیں ہو سکتی۔اسی دوران میں میری آنکھیں دُکھنے آ گئیں اور اس قدر دکھیں کہ میری ایک آنکھ قریباً ماری گئی۔چنانچہ اس میں سے مجھے بہت کم نظر آتا ہے۔پھر جب میں اور بڑا ہوا تو متواتر چھ سات ماہ تک مجھے بخار آتا رہا اور رسل اور دق کا مریض مجھے قرار دے دیا گیا۔ان وجوہ سے میں با قاعدہ پڑھائی بھی نہیں کر سکتا تھا۔لاہور کے ہی ماسٹر فقیر اللہ صاحب جن کی مسلم ٹاؤن میں کوٹھی ہے ہمارے سکول میں حساب پڑھایا کرتے تھے۔انہوں نے ایک دفعہ میرے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس شکایت کی کہ پڑھنے نہیں آتا اور اکثر غائب رہتا ہے۔میں ڈرا کہ شاید حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ناراض ہوں گے مگر آپ فرمانے لگے ماسٹر صاحب! اس کی صحت کمزور رہتی ہے ہم اتنا ہی شکر کرتے ہیں کہ یہ کبھی کبھی مدرسہ میں چلا جاتا ہے اور کوئی بات اس کے کانوں میں پڑ جاتی ہے زیادہ زور اس پر نہ دیں۔بلکہ مجھے یاد ہے آپ نے یہ بھی فرمایا ہم نے حساب سکھا کر اسے کیا کرنا ہے۔کیا ہم نے اس سے کوئی دُکان کرانی ہے۔قرآن اور حدیث پڑھ لے گا تو کافی ہے۔غرض میری صحت ایسی کمزور تھی کہ دنیا کے علم پڑھنے کے میں بالکل نا قابل تھا میری نظر بھی کمزور تھی میں پرائمری مڈل اور انٹرنس کے امتحان میں فیل ہوا ہوں کسی امتحان میں پاس نہیں ہوا۔مگر خدا نے میرے متعلق خبر دی تھی کہ میں علوم ظاہری اور باطنی