تأثرات — Page 71
تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء گزار ہیں اور آپ کو یہاں دیکھ کر ہمیں بہت خوشی ہے۔اگر ممکن ہو تو جماعت احمد یہ الورین بھی اپنا ہسپتال بنائے جو انسانوں کی خدمت میں محمد ہو گا۔اسی طرح شریعت کورٹ کی لائبریری میں کتب کی ضرورت ہے جو بھی آپ مدد کریں ہم اس کو قبول کریں گے۔ہم ایک بار پھر حضور انور کو خوش آمدید کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ حضور کو اپنی حفاظت میں رکھے۔آمین 65 الفضل انٹر نیشنل 13 تا 19 جون 2008 صفحہ 12، 13 ) استقبالیہ تقریب کے اختتام پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو شریعت کورٹ کو ار اسٹیٹ کا دورہ کرنے کی بھی دعوت دی گئی۔چنانچہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعوت قبول کرتے ہوئے شریعت کورٹ الْحِكْمَةُ الشَّرِيعَةُ الْاِسْتِيْنَافِيَةُ وَلَايَةِ كَوَارَ ا تفصیلی دورہ کیا اور لائبریری بھی دیکھی اور یہاں سے فارغ ہو کر واپس ہوٹل تشریف لے آئے۔نیوٹصہ (New Bussa): 28 اپریل 2008ء کے پروگرام کے مطابق آج ہی بعد از دو پہر الورین سے نیو بصہ کی طرف روانگی تھی۔چنانچہ پونے تین بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد احمد یہ الورین میں تشریف لا کر ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھائیں اور نیو بصہ کی طرف روانگی سے قبل ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کروائی۔الورین سے نیو بصہ تک کا فاصلہ دوسو پچیس کلومیٹر ہے۔پولیس کی کار نے تمام راستہ قافلہ کو Escort کیا۔نیو بصہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بورگو کے امیر Dr۔Halira (Borgu) Kitoro III Dentoro Con کے مہمان تھے۔اس شہر کو نیو بصہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ جہاں اصل شہر تھا وہاں حکومت نے ایک بہت بڑا ڈیم تعمیر کیا جس کا نام Kanji Dam رکھا گیا۔اس ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی سارے ملک اور پھر پڑوسی ممالک کو بھی مہیا کی جاتی ہے۔اس ڈیم کی تعمیر کی وجہ سے وہاں کے باشندوں کو چودہ کلومیٹر دور نئے گھر بنا کر دیئے گئے اور اس شہر کو نیو بصہ کہا جانے لگا۔اس علاقہ میں 1993ء میں احمدیت کی تبلیغ شروع ہوئی اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری گیارہ جماعتیں قائم ہو چکی ہیں۔ان جماعتوں کے قیام میں سابق امیر آف بورگوسٹیٹ جناب الحاج موسیٰ محمد مرحوم اور موجودہ امیر آف بورگوسٹیٹ نے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر سے نوازے۔یہاں پر جماعت کا ایک ہسپتال بھی ہے جہاں مکرم ڈاکٹر محبوب احمد صاحب خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔بور گوسلطنت کے امیر Alhaji Dr Halira Dentoro 2004ء میں بورگوسلطنت کے امیر مقرر ہوئے۔ان کے بڑے بھائی الحاج موسی محمد بھی بورگو سلطنت کے امیر رہے ان کی وفات 2000ء میں